امریکا کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے، جبکہ نتائج کے بعد ریپبلکن پارٹی کے اندر شکست کی ذمہ داری کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات لگائے جانے لگے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے، اور حکیم جیفریز نے ہاؤس اسپیکر کے لیے اپنی امیدواری کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران جنگ کو الیکشن میں شکست کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تقریباً سب پر واضح ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ریپبلکنز اس لیے ہارے کیونکہ وہ خود بیلٹ پر موجود نہیں تھے۔ ایوان میں ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن اقلیتی لیڈر کے عہدے کے لیے امیدوار نہیں ہوں گے، جبکہ اسٹیو اسکیلیز اور جم جارڈن نے اس عہدے کے لیے مہم شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب سینیٹ کی کئی نشستوں پر گنتی جاری ہے۔ مسی سپی میں ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولم 96 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ریپبلکن سینیٹر سنڈی ہائیڈ اسمتھ سے صرف 1,138 ووٹوں سے آگے ہیں۔ الاسکا میں ڈیموکریٹ میری پیلٹولا، ریپبلکن ڈین سلیوان پر صرف 626 ووٹوں کی برتری رکھتی ہیں، اور اگر کسی امیدوار کو 50 فیصد ووٹ نہ ملے تو مقابلے کا فیصلہ رینکڈ چوائس ووٹنگ سے ہو گا۔ لاس اینجلس کے میئر کا مقابلہ بھی ابھی تک کانٹے دار ہے، جہاں موجودہ میئر کیرن باس کے مقابلے میں نتھیا رمن کو معمولی برتری حاصل ہے۔