نیویارک(نیوزڈیسک)امریکی حکومت نے مبینہ طور پر فوڈ اسسٹنس پروگرام اسنیپ سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیاں تیز کردیں۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق، امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے ایسے متعدد افراد کو حراست میں لیا ہے جن پر حکومتی امدادی پروگراموں کے غلط استعمال کے الزامات ہیں۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور امگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے ملک بھر میں ایک بڑا آپریشن شروع کرتے ہوئے ان غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے جن پر فوڈ اسٹامپس یا سپلیمنٹل نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام کے تحت غیر قانونی طور پر سرکاری فوائد حاصل کرنے کا الزام ہے۔
امریکی وزیرِ ہوم لینڈ سیکیورٹی مارک وین ملن نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا کہ جو غیر قانونی تارکینِ وطن امریکہ میں رہنے کے اہل نہیں ہیں، انہیں کسی بھی صورت امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلنے والی اسنیپ گرانٹس اور فلاحی اسکیموں کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔یہ پروگرامز صرف ضرورت مند امریکی شہریوں کے لیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ گرفتاریاں اور ڈی پورٹیشنز محض ایک آغاز ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ اس قسم کی مالی دھوکہ دہی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔
امریکی وفاقی قانون کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن پر اسنیپ یا دیگر وفاقی فوڈ اسسٹنس گرانٹس حاصل کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے، جب کہ صرف قانونی دستاویزات رکھنے والے مخصوص غیر ملکی ہی اس کے اہل ہو سکتے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آئس کے ایک وسیع اور پائیدار آپریشن کا حصہ ہیں جن کا مقصد امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم سے چلنے والے فلاحی منصوبوں کا استحصال روکنا اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے غیر قانونی افراد کو جلاوطن کرنا ہے۔