امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر میں شدید تنقید کے بعد 2009 میں فورٹ ہڈ میں 13 افراد کو قتل کرنے والے سابق فوجی نضال حسن کی پھانسی براہ راست نشر کرنے کا منصوبہ منسوخ کردیا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ پھانسی کو نشر کرنا دہشت گردوں کیلئے سخت پیغام ہوسکتا تھا، تاہم بہت سے اچھے لوگ یہ منظر دیکھنا نہیں چاہتے، اس لیے حسن کو مقررہ وقت پر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے پھانسی تو دی جائے گی مگر اسے نشر نہیں کیا جائے گا، البتہ متاثرین کے اہل خانہ چاہیں تو خود موقع پر موجود ہوسکتے ہیں۔ حسن، جو فورٹ ہڈ فائرنگ کے دوران پولیس کی گولی سے کمر کے نیچے سے مفلوج ہوگئے تھے، اب وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ یہ پھانسی عوامی سطح پر دی جائے گی، جو 60 سال میں پہلی فوجی پھانسی اور امریکی تاریخ میں پہلی بار نشر ہونے والی پھانسی ہوتی۔ پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق ٹرمپ اور ہیگستھ نے اس فیصلے پر بات چیت کی، اور ہیگستھ صدر کے فیصلے سے مکمل طور پر متفق ہیں۔ اس اعلان پر امریکی کانگریس کے دونوں جانب کے ارکان نے شدید تنقید کی تھی، جن میں ری پبلکن سینیٹر لیزا مرکاوسکی بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ ایسی پھانسی نشر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی خبردار کیا تھا کہ اس طرح پھانسی نشر کرنا تشدد کی مکمل ممانعت کی خلاف ورزی ہوگی، جبکہ امریکی کیتھولک بشپس کانفرنس نے بھی اسے بربریت قرار دیا تھا۔