نوید وڑائچ کا خیبرپختونخوامیں گورنرراج لگانے پرتشویش کا اظہار
پاکستان تحریکِ انصاف نیو جرسی کے چیف کوآرڈینیٹر نوید وڑائچ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ، منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرنے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت صوبائی قیادت کے ارکان کو حراست میں لیے جانے پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔
نوید وڑائچ نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں منتخب حکومت کو اس انداز میں معطل کرنا عوام کے جمہوری مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور جمہوری روایات کے حوالے سے نہایت سنگین معاملہ ہے۔ قومی سلامتی اور امن و امان کے مسائل کا حل سیاسی تصادم، عوامی نمائندوں کی گرفتاریوں اور جمہوری عمل کو محدود کرنے میں نہیں، بلکہ قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب، سیاسی مکالمے اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین کسی ایک جماعت، حکومت یا ادارے کی ملکیت نہیں، بلکہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کا ضامن ہے۔ اگر کسی حکومتی اقدام کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھتے ہیں تو ان کا فیصلہ آزادعدلیہ اور آئینی اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔ کسی بھی غیر معمولی اقدام کو آئینی جواز، قانونی تقاضوں اور بنیادی انسانی حقوق کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔
نوید وڑائچ نے مزید کہا کہ پشاور اور خیبر پختونخوا محض پاکستان کا ایک صوبہ نہیں، بلکہ ملک کی تاریخ، ثقافت، جغرافیائی سلامتی اور قومی یکجہتی کا ایک اہم ستون ہیں۔ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد، مسلسل سکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد نے اس خطے کے عوام کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہاں کی بہادر عوام نے امن، استحکام اور پاکستان کی سلامتی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ انہیں مزید سیاسی بے یقینی، معاشی مشکلات اور خوف و ہراس سے دوچار کرنے کے بجائے امن، انصاف، ترقی اور باعزت زندگی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پختون عوام کی حب الوطنی، جرأت اور قربانیوں کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے عوام کا اعتماد، مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ اور تمام جمہوری قوتوں کا تعاون ناگزیر ہے۔ عوامی نمائندوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں سے اگر سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا نقصان پورے ملک کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
نوید وڑائچ نےمطالبہ کیا کہ زیرِ حراست سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے قانونی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے،کسی بھی غیر قانونی حراست کی صورت میں فوری قانونی کارروائی اور منصفانہ سماعت یقینی بنائی جائے، شہریوں کی روزمرہ زندگی، نقل و حرکت اور بنیادی آزادیوں کا تحفظ کیا جائے اور تمام سیاسی تنازعات کو طاقت کے بجائے آئین، قانون اورمذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مضبوطی کا راستہ جمہوریت، پارلیمان کی بالادستی، آئین کی پاسداری اور عوام کے فیصلے کے احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔ کسی بھی صوبے کی عوام کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی منتخب قیادت اوران کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔ پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب ہر صوبے کے شہریوں کو برابر کے حقوق، انصاف اور جمہوری نمائندگی حاصل ہو۔نوید وڑائچ نے خیبر پختونخوا کے عوام کےساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے، سیاسی کشیدگی کم کی جائے اور جمہوری عمل کو بحال کرنے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔