نیویارک شہر کے ایمرجنسی میڈیکل سروسز کے ملازمین، جو شہریوں کی جان بچانے کے فیصلے سیکنڈوں میں کرتے ہیں، لیکن شہر کے کم ترین تنخواہ پانے والے ہنگامی عملے میں شمار ہوتے ہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں ملازمین نوکری چھوڑ رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے دی گارجین کے مطابق 31 سال تک ایف ڈی این وائی ای ایم ایس میں خدمات انجام دینے والے اورین برزیلے کے مطابق وہ اب نوجوانوں کو اس شعبے میں آنے سے روکتے ہیں، کیونکہ اتنے طویل عرصے بعد بھی ان کی تنخواہ صرف 59 ہزار ڈالر تک محدود ہے۔ حکام کے مطابق شہر بھر میں 4500 سے زائد ای ایم ایس ورکرز سالانہ 19 لاکھ سے زائد طبی اور آتشزدگی کی ایمرجنسیز کو سنبھالتے دیتے ہیں، تاہم ایف ڈی این وائی کے ای ایم ٹی کی ابتدائی تنخواہ صرف 39 ہزار 386 ڈالر ہے، جو نیویارک کی کم از کم اجرت ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانچ سال کے تجربے کے بعد ای ایم ٹی کی تنخواہ تقریباً 59 ہزار 534 ڈالر تک پہنچتی ہے، جبکہ اتنے ہی تجربے والے فائر فائٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 5 ہزار 146 ڈالر تک جاسکتی ہے، جو تقریباً دگنی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایمبولینس کے پہنچنے کا اوسط وقت مالی سال 2025 کے 11 منٹ 21 سیکنڈ سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 13 منٹ 9 سیکنڈ ہوگیا ہے، جبکہ ریاستی رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2022 کے دوران فعال ای ایم ایس اہلکاروں کی تعداد میں 17.5 فیصد کمی آئی ہے۔ یونین رہنماؤں کے مطابق کم تنخواہوں کے باعث ملازمین کی بڑی تعداد نوکری چھوڑ رہی ہے۔