مینیسوٹا: خاتون ہاؤسنگ سروسز میں 3.6 ملین ڈالر کے میڈیکیڈ فراڈ پر مجرم قرار
امریکی ریاست مینیسوٹا کی وفاقی جیوری نے خاتون شرمین میڈوز کو اب ختم کیے جاچکے ہاؤسنگ اسٹیبلائزیشن سروسز پروگرام سے 3.6 ملین ڈالر چرانے کے جرم میں مجرم قرار دے دیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 45 سالہ میڈوز نے ایسی ہاؤسنگ خدمات کیلئے بل بھیجے جو بے گھر افراد کو رہائش میں منتقل اور مستحکم رکھنے کیلئے تھیں، مگر یہ خدمات دراصل فراہم ہی نہیں کی گئیں۔ استغاثہ کے مطابق پروگرام کے تحت فی مستحق زیادہ سے زیادہ 150 گھنٹے کی خدمات بل کی جاسکتی تھیں، اور میڈوز اپنے ملازمین کو ہدایت دیتی تھیں کہ خدمات فراہم ہوں یا نہ ہوں، بل ہمیشہ پوری حد تک بھیجا جائے۔ عدالتی شواہد کے مطابق کمپنی نے ایسے اوقات کار بھی بل کیے جو دراصل ملازمین نے الینوائے اور فلپائن جیسی جگہوں سے ادا کیے، جہاں انہیں صرف 6 ڈالر فی گھنٹہ کے عوض کام پر رکھا گیا تھا۔ شواہد سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ بعض اوقات ملزمہ نے ایسے دن بھی بل کیے جب مستحقین اسپتال میں داخل تھے، جبکہ ڈیٹا تجزیے سے معلوم ہوا کہ ملازمین کے روزانہ 20 گھنٹے سے زائد کام کے دعوے کیے گئے۔ میڈیکیڈ کے مستحقین نے گواہی دی کہ انہیں کمپنی سے معمولی یا کوئی خدمات نہیں ملیں، باوجود اس کے انہیں بتایا جاتا رہا کہ ان کے مقررہ گھنٹے ختم ہوچکے ہیں۔ حکام کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران پروگرام نے میڈوز کی کمپنی کو 3.6 ملین ڈالر سے زائد ادا کیے، جو مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں تھے۔ جیوری نے میڈوز کو صحت کے فراڈ کے 3 الزامات میں مجرم قرار دیا، جس پر ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔