سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نیابت کرتے ہوئے مجلس شوریٰ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کیا۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے اور مقررہ اہداف کے حصول کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق سعودی وژن 2030 کے دس سالہ سفر کے دوران وژن کے مختلف پروگراموں اور حکمت عملیوں کے کارکردگی اشاریوں نے اپنے اہداف کا 93 فیصد حاصل کرلیا ہے۔ولی عہد نے بتایا کہ 2016 کے مقابلے میں سعودی عرب کی غیر تیل برآمدات میں 155 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ملکی معیشت میں نجی شعبے کا حصہ بڑھ کر 51 فیصد ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک نظام عالمی سپلائی چین میں ہونے والی تبدیلیوں سے نمٹنے اور اشیا و خدمات کی روانی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔خلیجی خطے کی سلامتی کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنانے والے حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک کی سلامتی اور استحکام ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب اپنے برادر ممالک کے ساتھ مل کر خلیجی سلامتی کے تحفظ، اسٹریٹجک تعاون اور اقتصادی انضمام کے لیے کام جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، تاہم ملکی سلامتی کے تحفظ میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتی جائے گی۔شہزادہ محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور سالمیت کو نشانہ بنانے والے کسی بھی خطرے یا حملے کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دینے سے مملکت گریز نہیں کرے گی۔