امریکی محکمہ انصاف نے مینی سوٹا میں 10 غیرملکی شہریوں پر 2022 اور 2024 کے عام انتخابات اور رواں سال اگست کی پرائمری میں غیرقانونی ووٹنگ کے الزام میں فرد جرم عائد کردی۔
اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچے نے کہا کہ صرف امریکی شہری ہی امریکی انتخابات میں ووٹ ڈال سکتے ہیں، اور اس قانون پر عمل درآمد جمہوریت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکرٹری مارک وین ملن نے کہا کہ جو غیرملکی امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے انہیں ڈھونڈ کر گرفتار کیا جائے گا اور ملک بدر بھی کیا جاسکتا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان میں لائبیریا، لتھوانیا، گھانا، جرمنی، بوسنیا، برازیل، کینیڈا اور جنوبی افریقہ کے شہری شامل ہیں، جو قانونی طور پر امریکا میں مقیم تھے مگر شہریت کے بغیر ہی ووٹ ڈالتے رہے۔ استغاثہ کے مطابق کئی ملزمان نے رجسٹریشن کے دوران جھوٹی امریکی شہریت ظاہر کی، جبکہ گھانا کے شہری جوشوا ایڈزی پر رواں سال اگست کی پرائمری میں بھی غیرقانونی ووٹنگ کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق جھوٹی شہریت کا دعویٰ کرکے ووٹ ڈالنے پر زیادہ سے زیادہ 5 سال قید اور 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر جرمانہ ہوسکتا ہے، جبکہ غیرملکی کی حیثیت میں ووٹ ڈالنے پر ایک سال قید اور ایک لاکھ ڈالر جرمانہ کی سزا مقرر ہے۔ کیس کی تحقیقات ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز نے کیں۔