واشنگٹن کانیاویزاایکشن،27لاطینی حکام کےویزےمنسوخ،وجہ کیا ہے؟
نیویارک(نیوزڈیسک)امریکی محکمۂ خارجہ نے بولیویا، کولمبیا، ایکواڈور اور پیرو سے تعلق رکھنے والے 27 حکام، سابق حکام اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف ویزا پابندیاں عائد کردیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کےمطابق اس کارروائی کی وجوہات میں کرپشن، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنےاور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے والی سرگرمیاں شامل ہیں۔اس معاملےمیں سب سےنمایاں نام بولیویا کے اٹارنی جنرل راجر ماریئاکا کا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے ان پر رشوت طلب کرنے، منشیات کی اسمگلنگ میں سہولت کاری اور مبینہ طور پر بعض پرتشدد جرائم میں ملوث افراد کو قانون سے بچانے میں مدد دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔تاہم یہ الزامات امریکی حکومت کے مؤقف پر مبنی ہیں۔ ماریئاکا نے انہیں مسترد کیا ہے اور ویزا کارروائی کو سیاسی دباؤ قراردیا ہے۔رپورٹس کے مطابق بولیویا کے 20 سے زائد پراسیکیوٹرز اور ججز بھی اس امریکی اقدام کی زد میں آئے ہیں۔ اس کے علاوہ کولمبیا کے دو افراد، ایکواڈور کے دو شہری اور پیرو کے ایک جج کے خلاف بھی ویزا پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں جمہوری طرزِ حکمرانی کے تحفظ اور کرپشن، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔دوسری جانب ماریئاکا کا کہنا ہے کہ بیرونی دباؤ ان کی تحقیقات کو روک نہیں سکتا۔یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن لاطینی امریکا میں منشیات کی اسمگلنگ، کرپشن اور قانون کی حکمرانی سے متعلق معاملات پر اپنی پالیسی پر زیادہ زور دے رہا ہے۔