نیویارک(نیوزڈیسک) امریکی ادارے ایف ڈی اے نے ہڈیوں کی انتہائی سنگین بیماری ایف او پی کے علاج کے لیے نئی دوا کی منظوری دے دی ہے۔
ادویہ ساز ادارے میرم فارما سیو ٹیکلزکی تیار کردہ اس دوا کو ما رکیٹ میں’ ایٹربیوز’کے نام سے فروخت کیا جا ئے گا ۔کمپنی ترجمان کے مطابق روزانہ ایک مرتبہ استعمال ہونے والی یہ دوا 12 سال اور اس سے زائد عمر کے ایسے مریضوں کے لیے منظور کی گئی ہے جو ایف او پی کا شکار ہیں۔
یہ ہڈیوں کی بیماری’ایف اوپی’انتہائی نایاب جینیاتی عارضہ ہے جس میں جسم کے پٹھے اور لیگامنٹس رفتہ رفتہ ہڈی میں تبدیل ہونے لگتے ہیں،جس کے نتیجے میں جسم کی حرکت محدود ہوتی جاتی ہے اور بعض مریضوں میں شدید معذوری پیدا ہوسکتی ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عام طور پر ایف او پی کی تشخیص بچپن کے ابتدائی برسوں میں ہوجاتی ہے، میرم فارماسیوٹیکلز کے مطابق امریکا میں تقریباً 300 جبکہ دنیا بھر میں لگ بھگ 900 افراد اس بیماری سے متاثر ہیں۔نئی دوا جسم میں موجود اے ایل کے ٹو نامی پروٹین کو بلاک کرکے کام کرتی ہے، ایف او پی کے زیادہ تر مریضوں میں یہ پروٹین غیر معمولی طور پر فعال ہوتا ہے اور جسم کے معمول کے ڈھانچے سے باہر ہڈی بننے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، دوا کی تجویز کردہ خوراک 100 ملی گرام روزانہ ہے۔
ایف ڈی اے کی منظوری 63 مریضوں پر کیے گئے ایک کلینیکل مطالعے کے نتائج پر مبنی ہے۔ تحقیق میں 24ہفتوں کے بعد دوا استعمال کرنے والےمریضوں میں پلیسبو گروپ کے مقابلے میں نئی ہڈی بننے کےعمل میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔میرم فارماسیوٹیکلز کےچیف ایگزیکٹو کرس پیٹز کے مطابق کمپنی اکتوبر میں دوا مارکیٹ میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ اس کی قیمت بھی اسی دوران بتائی جائےگی۔