نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان، لبنان کے وزیراعظم نواف سلام اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت سنبھالنے پر بنگلہ دیش کو مبارکباد دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے مقاصد کے فروغ کے لیے اس کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیاحت اور عوامی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ اقوام متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر رابطے اور تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔لبنان کے وزیراعظم نواف سلام سے ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے لبنان کی خودمختاری، سیاسی آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور لبنان کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فوری طور پر مخاصمت کے خاتمے، جنگ بندی کی پاسداری، مقبوضہ لبنانی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور ادارہ جاتی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ روابط بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی، جس میں خطے اور دنیا کو درپیش اہم چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور امن کی بحالی کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی بنیادی راستہ ہونا چاہیے، خصوصاً مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں۔وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ اسلاموفوبیا میں اضافے اور افغانستان کی سرزمین سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی خدمات، دہشت گردی کے خلاف قربانیوں اور خطے میں مکالمے و پائیدار امن کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کے اعتراف پر ان کا شکریہ ادا کیا۔