نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں مسجد پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا ہے۔
سلامتی کونسل کے صدر جیروم بونافون کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ۱۸ ستمبر کو ہونے والے حملے میں ۲۴ پاکستانی جاں بحق ہوئے، جن میں ۷ شہری اور ۱۷ قانون نافذ کرنے والے اہلکار شامل تھے، جبکہ ۸۸ افراد زخمی ہوئے۔بیان میں کہا گیا کہ ایک دہشت گرد گروہ، جس کے بعض وابستگان کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے جوڑا گیا ہے، نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ سلامتی کونسل نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔سلامتی کونسل نے حملے کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے پر زور دیتے ہوئے تمام ممالک سے پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے معاملے میں فعال تعاون کی اپیل کی۔بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی اپنی تمام شکلوں میں عالمی امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے اور کسی بھی مقصد یا محرک کی بنیاد پر دہشت گرد کارروائیوں کا کوئی جواز نہیں۔