پاکستانی کال سینٹر سے امریکا میں 703 ملین ڈالر کا مبینہ فراڈ، 4 پاکستانی مطلوب
نیویارک (نیوز ڈیسک)امریکی حکام نے پاکستانی کال سینٹر کے ذریعے میڈی کیئر اور میڈی کیئر ایڈوانٹیج منصوبوں میں 703 ملین ڈالر سے زائد کے مبینہ فراڈ کا انکشاف کیا ہے۔ چار مطلوب افراد کے نام جاری کرتے ہوئے عوام سے ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
امریکا میں میڈی کیئر فراڈ کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا، پاکستانی کال سینٹر کے ذریعے 703 ملین ڈالر سے زائد کے مبینہ فراڈ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات کے انسپکٹر جنرل آفس کے مطابق جنوری 2023 سے اپریل 2025 کے دوران چلنے والی مبینہ عالمی ہیلتھ کیئر فراڈ اسکیم میں پاکستان سے چلنے والے کال سینٹر ہیلو انٹرنیشنل مارکیٹنگ سلیوشنز نے مرکزی کردار ادا کیا۔
حکام کے مطابق ملزمان نے میڈی کیئر صارفین کے شناختی نمبرز اور حساس معلومات حاصل کرکے کووڈ ٹیسٹ کٹس، جینیٹک ٹیسٹس اور دیگر طبی سامان کے نام پر جعلی کلیمز جمع کرائے۔تفتیشی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر 703 ملین ڈالر سے زائد کے جعلی کلیمز جمع کیے گئے، جن میں سے تقریباً 418 ملین ڈالر میڈی کیئر سے حاصل کیے گئے۔امریکی حکام نے چار مطلوب افراد کے نام بھی جاری کیے ہیں جن میں فضا فرید، شہریار عارف، رکن الدین چارولیا اور فیضان سلیم شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض متاثرین سے جعلی رضامندی حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا۔امریکی حکام کے مطابق مطلوب افراد میں سے کچھ پاکستان یا متحدہ عرب امارات میں موجود ہو سکتے ہیں، اور عوام سے ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام الزامات ہیں اور عدالت سے جرم ثابت ہونے تک ملزمان کو بے گناہ تصور کیا جائے گا۔