vosa.tv
Voice of South Asia!

سورج کی روشنی سے چلنے والی ایمبولینس، نیدرلینڈز کے طلبہ کا منفرد کارنامہ

0

 افریقہ کے دور دراز علاقوں میں طبی سہولتوں کی کمی دور کرنے کے لیے نیدرلینڈز کے طلبہ نے منفرد شمسی ایمبولینس تیار کرلی، جو ایندھن یا چارجنگ اسٹیشن کے بغیر بھی طبی آلات چلا سکتی ہے۔

افریقہ کے دور دراز علاقوں میں جہاں اسپتال اور بنیادی طبی سہولتیں محدود ہیں، وہاں نیدرلینڈز کے طلبہ نے ایک منفرد حل پیش کر دیا۔ طلبہ نے سورج کی روشنی سے چلنے والی ایمبولینس تیار کی ہے، جسے ’اسٹیلا جووا‘ کا نام دیا گیا ہے۔یہ گاڑی صرف مریضوں کی منتقلی کے لیے نہیں، بلکہ طبی آلات اور انہیں چلانے کے لیے درکار توانائی دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ایمبولینس میں ایکسرے مشین، الٹراساؤنڈ اور ویکسین کو محفوظ درجہ حرارت پر رکھنے کے لیے فریج سمیت مختلف طبی سہولتیں موجود ہیں۔اسٹیلا جووا کی چھت پر سولر پینلز نصب ہیں، جو سفر کے دوران بھی توانائی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ گاڑی کھڑی ہونے کی صورت میں اضافی سولر پینلز باہر نکال کر پھیلا دیے جاتے ہیں، جس سے شمسی توانائی حاصل کرنے کا رقبہ بڑھ جاتا ہے۔اس منصوبے پر کام کرنے والی سولر ٹیم میں 23 طلبہ شامل ہیں، جن کا تعلق آئندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور دو دیگر تعلیمی اداروں سے ہے۔ ٹیم اسے دنیا کی پہلی شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس قرار دیتی ہے۔ٹیم کی رکن 22 سالہ ازابیلا واننگن کے مطابق گاڑی نے دشوار گزار راستوں پر توقع سے بہتر کارکردگی دکھائی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.