بروکلین میں ٹیکس ریٹرن تیار کرنے والی خاتون نے صارفین کے لیے جعلی ٹیکس ریٹرنز تیار کرنے کا جرم قبول کر لیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس فراڈ کے نتیجے میں ملکی خزانے کو 1.4ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ایڈریس کسٹ نامی خاتون 2019 سے 2023 کے دوران کسٹ ٹیکس سروسزکے نام سے ٹیکس فائلنگ کا کام کر رہی تھیں۔حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد کلائنٹس کے لیے مبینہ طور پر غلط اور جعلی ٹیکس ریٹرنز تیار کیے۔ان ریٹرنز میں غلط طور پر خود کو خاندان کا سربراہ ظاہر کرنا، سرمایہ جاتی اثاثوں کی جعلی فروخت اور نقصان، کرائے سے متعلق غلط آمدنی ظاہر کرنا اور کرائے کے اخراجات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شامل تھا۔حکام کے مطابق ان جعلی معلومات کے باعث بعض کلائنٹس نے ایسے ٹیکس ریفنڈز حاصل کرنے کی کوشش کی جن کے وہ حقدار نہیں تھے، جبکہ کچھ نے اصل واجب الادا ٹیکس سے کم رقم ظاہر کی۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ایڈریس کسٹ کی کارروائیوں سے آئی آر ایس کو مجموعی طور پر 1.4ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔کسٹ نے جان بوجھ کر جعلی ٹیکس ریٹرن تیار کرنے اور جمع کرانے میں مدد دینے کے ایک الزام کا اعتراف کر لیا ہے۔انہیں بعد میں سزا سنائی جائے گی اور قانون کے تحت انہیں زیادہ سے زیادہ تین سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم حتمی سزا وفاقی عدالت دیگر قانونی عوامل اور سزا کے رہنما اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کرے گی۔کیس کی تحقیقات آئی آر ایس کریمنل انویسٹی گیشن جاری رکھے ہوئے ہے۔