محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا اور اللہ کے نزدیک حرمت والا مہینہ ہے جو ہمیں صبر، قربانی، اتحادِ امت اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کا درس دیتا ہے اور اس کا پیغام صرف ایک مہینے تک نہیں بلکہ پورے سال کے لیے ایک لائحہ عمل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بارہ مہینوں میں سے چار کو حرمت والے قرار دیا ہے جن میں محرم الحرام سرفہرست ہے۔ اسے شہر اللہ یعنی اللہ کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق نبی کریمؐ نے فرمایا کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں۔محرم کا ذکر آتے ہی نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ کی عظیم شہادت یاد آتی ہے۔ کربلا کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کی راہ پر قربانی دینا مومن کی پہچان ہے اور ظاہری فتح سے زیادہ اخلاقی اور نظریاتی فتح اہم ہوتی ہے۔ آپؓ کا کردار قیامت تک ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں۔محرم کی دسویں تاریخ یومِ عاشورہ تاریخِ انسانی کا اہم دن ہے اس مہینے میں ﷲتعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان نوح کے بعد جودی نامی پہاڑ کے قریب آکر ٹھہری ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو اس مہینے میں قید سے نجات حاصل ہوئی۔ حضرت ایوب علیہ السلام کو طویل بیماری کے بعد شفا نصیب ہوئی۔ حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور آل فرعون سے اس طرح نجات ملی کہ ﷲ تعالیٰ نے فرعون سمیت اس کی فوجوں کو بحیرہ قلزم میں غرق کردیا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اُٹھا لیا گیا۔ مندرجہ بالا تمام واقعات کا تعلق دین اسلام کی آمد سے قبل سےہے اور تاریخی کتابوں سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ تمام واقعات محرم الحرام کی دسویں تاریخ جسے عاشوراء یا عاشورۂ محرم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کو پیش آئے تھے۔نبی کریمؐ نے فرمایا کہ عاشورہ کا روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔اس مبارک مہینے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے اخلاق بہتر بنائیں، نفلی روزے رکھیں، غریبوں کی مدد کریں، زبان کی حفاظت کریں اور معاشرے میں امن و رواداری کو فروغ دیں۔ نیا اسلامی سال اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم پچھلے سال کی کوتاہیوں کا جائزہ لیں اور نئے عزم کے ساتھ نیکی کی راہ پر گامزن ہوں۔