یورپ کے بعد امریکا میں بھی نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا ریگولیشن کا فیصلہ
امریکی ایوانِ نمائندگان کی اہم کمیٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریگولیٹ کرنے کا مشترکہ معاہدہ کر لیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات، سائبر بلنگ اور نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اب بڑی ٹیک کمپنیوں کی من مانی نہیں چلے گی اور نوجوانوں کے ذہنی و جسمانی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انہیں ہر صورت جوابدہ بنایا جائے گا۔ یہ قانون سازی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں گزشتہ سال دسمبر سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مکمل پابندی نافذ ہے اور خلاف ورزی پر کمپنیوں کو تقریباً پانچ کروڑ آسٹریلین ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ چین میں سائبر اسپیس ریگولیٹر نے مائنر موڈ پروگرام نافذ کیا ہے جس کے تحت عمر کے مطابق اسکرین ٹائم محدود کرنے کے لیے ڈیوائس پر پابندیاں اور ایپس کے لیے مخصوص قواعد لاگو کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر سخت کنٹرول کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔