vosa.tv
Voice of South Asia!

نیویارک میں آرتھوڈوکس یہودیوں کا اسرائیلی قونصل خانے کے سامنے احتجاج

0

نیویارک: امریکہ میں آرتھوڈوکس یہودیوں کے ایک گروپ جو ربینیکل الائنس آف یو ایس اے   نےنیویارک شہر میں اسرائیلی قونصل خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اسرائیلی ریاست، اس کی جاری جنگی پالیسیوں اور جبری فوجی بھرتی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرے کے شرکاء نے اسرائیل پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مقدس سرزمین میں ایسے مذہبی یہودیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو صہیونیت کے مخالف ہیں اور فوجی خدمات انجام دینے سے انکار کرتے ہیں۔ مظاہرین نے اسرائیلی حکومت پر مخالفین کی گرفتاریوں، ہراسانی اور طاقت کے استعمال کا بھی الزام لگایا۔مظاہرے کے ترجمان ربی نخم مائر نے کہا کہ مذہبی عقائد کے خلاف یہودیوں کو فوجی خدمت پر مجبور کرنا مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے، جبکہ احتجاج کرنے والوں کو نشانہ بنانا آزادیِ اظہار پر حملہ ہے۔ربی مائر کا کہنا تھا کہ روایتی یہودی عقائد کے مطابق یہودی قوم ایک الٰہی حکم کے تحت جلاوطنی کی حالت میں ہے اور انہیں طاقت کے ذریعے خودمختار ریاست قائم کرنے، جنگیں چھیڑنے یا دیگر اقوام کے خلاف بغاوت کرنے کی اجازت نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نیویارک سے لے کر یروشلم تک دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ایسے یہودی موجود ہیں جو اسرائیلی ریاست اور اس کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اسرائیلی فوج کی کسی بھی شکل میں حمایت نہیں کریں گے۔مظاہرے میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ یہودیت اور صہیونیت دو الگ تصورات ہیں۔ شرکاء کے مطابق یہودیت ایک مذہب ہے جو خدا کی عبادت اور امن کے فروغ کی تعلیم دیتا ہے، جبکہ صہیونیت ایک سیاسی نظریہ ہے جو قوم پرستی اور مسلسل تنازعات پر مبنی ہے۔مظاہرین نے مقبوضہ علاقوں میں آبادکاروں کے تشدد اور نئی بستیوں کی توسیع کی بھی مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدامات خطے میں امن اور مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔احتجاج کے اختتام پر شرکاء نے مقدس سرزمین میں امن، انصاف اور خونریزی کے خاتمے کے لیے دعا کی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ صہیونیت مخالف یہودی برادریوں کے مذہبی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.