امریکی وفاقی عدالت نے ٹیکساس کے ایک امیگریشن حراستی مرکز کے باہر فائرنگ اور احتجاج کے مقدمے میں 8 افراد کو مجموعی طور پر کئی دہائیوں پر محیط قید کی سزائیں سنا دیں۔ استغاثہ نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔
عدالت کے مطابق جولائی 2025 میں ڈلاس کے قریب پریری لینڈ حراستی مرکز کے باہر ہونے والے مظاہرے کے دوران ایک پولیس افسر زخمی ہوا تھا۔ سابق میرین ریزروسٹ بینجمن سانگ کو فائرنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 100 سال قید کی زیادہ سے زیادہ سزا سنائی گئی، جبکہ دیگر سات ملزمان کو 30 سے 70 سال تک قید کی سزائیں دی گئیں۔وفاقی جج ریڈ او کونر نے کہا کہ یہ محض احتجاج نہیں بلکہ "جمہوریت پر حملہ” تھا، اس لیے سخت سزا ضروری ہے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ملزمان انتہا پسند نظریات رکھتے تھے اور تشدد کو جائز سمجھتے تھے۔دوسری جانب ملزمان اور ان کے اہل خانہ نے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ دفاعی وکلا کا کہنا ہے کہ ملزمان کا مقصد زیرِ حراست تارکین وطن کے حق میں آواز اٹھانا تھا، نہ کہ کسی کو نقصان پہنچانا۔ بینجمن سانگ کے وکیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ 100 سالہ سزا کے خلاف اپیل کریں گے۔