امریکا کی ریاست فلوریڈا میں بائیوفیول فراڈ اسکینڈل میں ملوث کمپنی مالک کرسٹوفر برڈیٹ کو عدالت نے 18 ماہ قید، دو سال نگرانی اور 28 لاکھ 57 ہزار ڈالر سے زائد رقم واپس کرنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ اس پر ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق کرسٹوفر برڈیٹ نے اپنی بائیوفیول کمپنی کے ذریعے جعلی طور پر ایندھن کی پیداوار زیادہ ظاہر کی تاکہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) اور آئی آر ایس سے لاکھوں ڈالر کے غیرقانونی کریڈٹس اور ٹیکس فوائد حاصل کیے جا سکیں۔عدالتی دستاویزات کے مطابق فلوریڈا کے شہر فورٹ پیئرس میں قائم کمپنی مختلف خام مال سے بائیو ڈیزل بنانے کا دعویٰ کرتی تھی، تاہم کمپنی نے اصل پیداوار سے کہیں زیادہ مقدار ظاہر کی۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ کمپنی حکام کو جعلی ریکارڈ، غلط معلومات اور فرضی خریداروں کی تفصیلات فراہم کرتی رہی۔اس کیس میں کمپنی کے جنرل منیجر کو پہلے ہی 37 ماہ قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فراڈ اسکیم کے ذریعے 70 لاکھ ڈالر سے زائد کے جعلی ماحولیاتی کریڈٹس حاصل کیے گئے جبکہ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کے جعلی ٹیکس کریڈٹس لینے کی کوشش کی گئی۔