کیا نئی پالیسی پناہ گزینوں کے لیے مشکلات بڑھا دے گی؟
امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے پناہ کے متلاشی افراد کے لیے نئی فیس اور سخت شرائط متعارف کرا دی ہیں، جن کے تحت سالانہ فیس ادا نہ کرنے والوں کی درخواستیں مسترد کر دی جائیں گی۔ یہ اقدامات 2025 کے قانون ایچ آر ون کے تحت نافذ کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اب ہر پناہ گزین درخواست گزار کو سالانہ “اینول اسائلم فیس” ادا کرنا ہوگی۔ اگر کوئی فرد اطلاع ملنے کے 30 دن کے اندر یہ فیس ادا نہ کرے تو متعلقہ محکمہ اس کی زیر التوا درخواست مسترد کر دے گا۔ مزید یہ کہ اگر درخواست گزار کے پاس قانونی حیثیت نہ ہو تو اس کے خلاف ملک بدری کی کارروائی بھی شروع کی جا سکتی ہے۔نئے قواعد کے تحت درخواست مسترد ہونے کی صورت میں ملازمت کی اجازت بھی فوری طور پر ختم ہو جائے گی، جبکہ زیر التوا ورک پرمٹ درخواستیں بھی مسترد کر دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ فارم آئی-589 کی فائلنگ فیس اب ناقابل واپسی ہوگی، چاہے درخواست تکنیکی بنیادوں پر ہی کیوں نہ رد کی جائے۔حکام نے مزید بتایا کہ عارضی تحفظ یافتہ افراد (ٹی پی ایس) کے لیے ملازمت کی اجازت کی مدت بھی محدود کر دی گئی ہے، جبکہ دیگر امیگریشن فارموں پر کم از کم نئی فیس بھی مقرر کی گئی ہے۔ یہ عبوری قانون 29 مئی 2026 سے نافذ ہوگا، جبکہ عوامی رائے 29 جون تک طلب کی گئی ہے۔