نیویارک شہر میں حکام ایسی قانون سازی زیر غور ہے جس کے تحت سال میں 16 بار اسپیڈ کیمرہ خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کو اپنی گاڑیوں میں رفتار محدود کرنے والا آلہ نصب کرنا ہوگا۔
حکام کے مطابق میئر زہران ممدانی نے یہ ٹیکنالوجی 1 ہزار سے بڑھا کر 3 ہزار گاڑیوں تک لے جانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ریاستی قانون "اسٹاپ سپر اسپیڈرز ایکٹ” پر مبنی ہے، جو بار بار اسپیڈ خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کو نشانہ بناتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ آلات ڈرائیور کو مقررہ حد سے 5 میل فی گھنٹہ زیادہ تک رفتار کی اجازت دیں گے۔ قانون کے تحت پہلی بار آلہ نصب کرنے کا حکم 12 ماہ کیلئے ہوگا، جبکہ بار بار خلاف ورزی پر یہ مدت 24 اور 36 ماہ تک بڑھ سکتی ہے، اور چوتھی بار خلاف ورزی پر آلہ اس وقت تک نصب رہے گا جب تک ریاستی کمشنر اسے ہٹانے کی اجازت نہ دے۔ حکام کے مطابق 2022 میں شروع ہونے والے پائلٹ پروگرام میں اب تک ایک ہزار سے زائد شہری گاڑیاں یہ ٹیکنالوجی استعمال کرچکی ہیں، جنہوں نے ایک کروڑ میل سے زائد سفر طے کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں شہر کے 10 سب سے زیادہ اسپیڈ کرنے والے ڈرائیوروں کو اوسطاً 179 اسکول زون چالان ملے، جبکہ سب سے زیادہ چالان والے ڈرائیور کو 259 بار پکڑا گیا۔