امریکی محکمہ انصاف نے لاس اینجلس میں صحت کے فراڈ کے مختلف کیسز میں 15 افراد، جن میں 6 طبی ماہرین بھی شامل ہیں، پر فرد جرم عائد کردی، جس میں مجموعی طور پر 1.8 بلین ڈالر سے زائد کے جعلی دعوے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق سب سے بڑا کیس منشیات کے عادی افراد کے جعلی علاج کا ہے، جس میں 1.6 بلین ڈالر سے زائد کے جعلی بل بھیجے گئے، یہ محکمہ انصاف کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا ایسا کیس ہے۔ استغاثہ کے مطابق نیتھن اور ڈیوڈ ینگ نے ملک بھر سے بے گھر اور کمزور افراد کو جنوبی کیلیفورنیا لا کر جعلی نشہ چھڑاؤ علاج کے نام پر پرائیویٹ انشورنس کمپنیوں سے رقم بٹوری، اور مریضوں کو منشیات، کیش اور تحائف دے کر اپنے پاس روکے رکھا۔ ایک اور کیس میں ڈاکٹر ہیرالڈ طبائی اور ان کے کاروباری ساتھی ہینی ملک پر الزام ہے کہ انہوں نے غیرضروری آرٹیریل سرجریوں کے ذریعے میڈیکیئر سے 135 ملین ڈالر کا فراڈ کیا، جس سے بعض مریضوں کو شدید تکلیف پہنچی۔ تیسرے کیس میں جیوفری جمینز اور دیگر پر الزام ہے کہ انہوں نے غیرٹرمینل مریضوں کو ہاسپس کیئر میں داخل کرکے میڈیکیئر سے 138 ملین ڈالر سے زائد کا فراڈ کیا۔ ایک الگ کیس میں کرسٹینا ماریک پر الزام ہے کہ انہوں نے میڈی کیل سے 270 ملین ڈالر کے جعلی فارمیسی دعووں کا فراڈ کیا۔ حکام کے مطابق آج 8 ملزمان کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 6 لاس اینجلس اور 2 ٹیکساس کی عدالتوں میں پیش ہوں گے۔