میئر زوہران ممدانی کی انتظامیہ نے شہر کے فٹ پاتھوں پر نصب عارضی حفاظتی چھتیں ہٹانے اور نئی چھتوں کے ڈیزائن بہتر بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں شہر بھر میں ایک ہزار سے زائد شیڈز کم ہو چکے ہیں۔
نیویارک سٹی کے محکمہ عمارت سازی کے مطابق 17 اگست تک شہر میں فٹ پاتھوں پر حفاظتی شیڈز کے 7 ہزار 427 اجازت نامے موجود تھے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایک ہزار سے زائد کم ہیں۔ میئر ممدانی کے یکم جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کی تعداد میں تقریباً 10 فیصد کمی آئی ہے۔نئے قواعد کے تحت عمارتوں کے مالکان کو شیڈز کے اجازت ناموں کی تجدید ہر 90 روز بعد کرانا ہوگی اور اس دوران عمارت کی مرمت سے متعلق پیش رفت کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ اس سے قبل اجازت ناموں کی تجدید سالانہ بنیادوں پر ہوتی تھی۔حکام کے مطابق اگر کسی عمارت پر مرمت کا کام جاری نہ ہو یا مالکان مناسب وقت میں بیرونی حصے کی مرمت مکمل نہ کریں تو 180 روز کے بعد ماہانہ جرمانے عائد کیے جا سکیں گے۔ محکمہ عمارت سازی کو توقع ہے کہ جرمانوں کا نفاذ 2027 کے آغاز میں شروع ہوگا۔انتظامیہ چھ نئے ڈیزائن بھی متعارف کرانے کی تجویز دے رہی ہے، جن کا مقصد فٹ پاتھوں پر روشنی، نظر آنے کی گنجائش اور پیدل چلنے والوں کے لیے جگہ بہتر بنانا ہے، جبکہ لوگوں کو عمارتوں سے گرنے والے ملبے سے تحفظ بھی فراہم کیا جائے گا۔ یہ ڈیزائن آرکیٹیکچر اور ڈیزائن کی فرموں اَروپ اور پریکٹس فار آرکیٹیکچر اینڈ اربنزم نے تیار کیے ہیں۔بڑی رہائشی آبادیوں، تعلیمی اداروں اور طبی مراکز جیسے وسیع احاطوں میں بھی غیر ضروری شیڈز کم کیے جائیں گے۔ نئی رہنمائی کے مطابق عمارت سے زیادہ سے زیادہ 40 فٹ کے فاصلے تک ہی حفاظتی شیڈز کی ضرورت محدود رکھنے کی ہدایت دی جائے گی، تاکہ عوامی راستوں پر بلاوجہ رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔