vosa.tv
Voice of South Asia!

دنیا بھرمیں ملازمین کی اےآئی کے ذریعے نگرانی میں اضافہ

0

دنیا بھرمیں دفاتر اور دیگر کاروبا ری اداروں میں ملا زمین کی کارکر دگی پر نظررکھنےکے لیے اے آئی کا استعما ل  بڑھ رہا ہے، تا ہم اس ٹیکنا لوجی کے ذریعے کام کی نگرانی اور ملا زمین کی نجی زندگی میں مداخلت پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق، ’کوآپ لیگل سروسز‘ نے ایسا اے آئی نظام متعارف کرایا ہے جو صارفین کو قانونی مشورے دینے والے ملازمین کی فون کالز ریکارڈ کرتا، ان کا تجزیہ کرتا اور گفتگو کی بنیاد پر انہیں فیصد کی صورت میں اسکور دیتا ہے۔ ان کالز میں وصیت، وراثت اور کسی شخص کی وفات کے بعد اس کے اثاثوں سے متعلق معاملات پر بات چیت شامل ہوتی ہے۔

کمپنی کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گارجین کو بتایا کہ اس نظام کے تحت ملازمین کو مسلسل نگرانی میں رہنے کا احساس ہوتا ہے۔ ایک مخبر نے اس ٹیکنالوجی کو جابرانہ اور ایک ایسی صورت حال قرار دیا جس میں ملازمین کی ہر سرگرمی پر نظر رکھی جاتی ہے۔دوسری جانب کوآپ نے ان تنقیدوں سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے وراثتی معاملات کے مشیر اپنے کام میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔

 اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا تھا کہ ان کے خیال میں دنیا کو اس ٹیکنالوجی کے فوائد کے حصول کے لیے بعض برے نتائج کو قبول کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بیان اے آئی کے ممکنہ غلط استعمال اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کے تناظر میں سامنے آیا۔تاہم ملازمین کی نگرانی، تنخواہوں میں فرق اور ڈیٹا سے متعلق کام کرنے والے کارکنوں کے مسائل ظاہر کرتے ہیں کہ اے آئی کے اثرات صرف سائبر سکیورٹی یا ٹیکنالوجی کے غلط استعمال تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی لوگوں کے روزگار، آمدنی، کام کے ماحول اور نجی زندگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

اے آئی کے استعمال سے کام کی رفتار اور کارکردگی بہتر بنانے کے امکانات موجود ہیں، لیکن اس کے ساتھ ملازمین کے حقوق، نگرانی کے واضح اصول، منصفانہ معاوضے اور فیصلوں میں شفافیت کو یقینی بنانا بھی اہم ہے۔ اس طرح یہ طے کرنا ممکن ہوگا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے فوائد کے ساتھ اس کے انسانی اور معاشرتی اثرات کو کس طرح متوازن رکھا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.