نیویارک(نیوزڈیسک)امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے غیرملکی طلبہ کے لیے گریجویشن کے بعد ملازمت کا راستہ مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نےغیرملکی طلبہ کے لیے آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ کی فیس میں بڑے اضافے کی تجویز دے دی۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے تجویز دی ہے کہ ایف ون ویزا رکھنے والے غیرملکی طلبہ کو ابتدائی عملی تربیت کے لیے 70 ہزار ڈالر فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔اگر طالب علم اضافی عملی تربیت حاصل کرنا چاہے تو اس کے لیے مزید 30 ہزار ڈالر فیس تجویز کی گئی ہے۔موجودہ نظام میں آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ کے لیے طلبہ تقریباً 500 ڈالر ادا کرتے ہیں۔یعنی نئی تجویز منظور ہونے کی صورت میں فیس میں بہت بڑا اضافہ ہوسکتا ہے۔
آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ ایک ایسا پروگرام ہے جس کے ذریعے امریکامیں ایف ون ویزا پر تعلیم حاصل کرنے والےغیرملکی طلبہ اپنی تعلیم سے متعلق شعبے میں عملی کام کا تجربہ حاصل کرسکتے ہیں۔تعلیم کے دوران طلبہ کو محدود گھنٹوں کے لیے کام کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، جبکہ گریجویشن کے بعد بھی مخصوص مدت کے لیے کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بعض صورتوں میں اضافی مدت تک کام کرنے کی اجازت بھی مل سکتی ہے۔
یہ پروگرام بہت سےغیر ملکی طلبہ کے لیے امریکا میں تعلیم کے بعد ملازمت حاصل کرنے اور مستقبل میں ایچ ون بی ویزا کی طرف جانے کا اہم راستہ بھی سمجھا جاتا ہے۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ مجوزہ تبدیلی کا مقصد فراڈ اور غلط استعمال کو روکنا، امیگریشن نظام کو مضبوط بنانا اور امریکی کارکنوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔تاہم اگر یہ تجویز منظور ہوجاتی ہے تو غیر ملکی طلبہ کے لیے امریکا میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی تجربہ حاصل کرنا اور ملازمت کی طرف بڑھنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگا ہوسکتا ہے۔مجوزہ قواعد پر عوام سے 30 دن تک رائے لی جائے گی۔
اس کے بعد حتمی قواعد نافذ کرنے سے پہلے مزید 60 دن کا وقفہ رکھنے کی تجویز ہے۔یعنی ابھی یہ فیصلہ حتمی نہیں، لیکن اگر مجوزہ فیس منظور ہوگئی تو امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں بین الاقوامی طلبہ کے لیے آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ کے ذریعے کام کرنے کی لاگت میں غیرمعمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔