vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکامیں قانونی تارکینِ وطن کے لیےبڑاجھٹکا،ہزاروں افراد کی میڈیکیڈکوریج ختم ہونےلگی

0

نیویارک (نیوزڈیسک)امریکا میں قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کے لیے صحت کی سہولتوں سے متعلق اہم تبدیلی یکم اکتوبر سے نافذ ہورہی ہے۔نئے وفاقی قانون کے تحت پناہ گزینوں، پناہ حاصل کرنے والے بعض افراد اور دیگر قانونی تارکینِ وطن کے لیے میڈیکیڈ کی اہلیت محدود کردی گئی ہے، جس کے باعث ہزاروں افراد صحت کی سہولت سے محروم ہونے کے خطرے میں ہیں۔

نیو یارک ٹائمز  کے مطابق  نو ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں ماہ 2 لاکھ 81 ہزار سے زائد تارکینِ وطن میڈیکیڈ کوریج سے محروم ہوسکتے ہیں۔صرف فلوریڈا میں تقریباً ایک لاکھ 77 ہزار، ایریزونا میں 28 ہزار جبکہ نیو جرسی میں 15 ہزار سے 25 ہزار افراد متاثر ہونے کا امکان ہے۔متاثر ہونے والوں میں جنگ سے فرار ہو کر امریکا آنے والے پناہ گزین، ظلم و ستم سے بچنے والے افراد، انسانی اسمگلنگ کے بعض متاثرین اور افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے بعض مترجم بھی شامل ہیں۔

تاہم امریکی شہریوں، گرین کارڈ رکھنے والے قانونی مستقل رہائشیوں اور بعض دیگر مخصوص گروپس کو اس تبدیلی سے تحفظ حاصل رہے گا۔مسئلہ یہ بھی ہے کہ کئی متاثرہ تارکینِ وطن گرین کارڈ کے لیے پہلے ہی درخواستیں دے چکے ہیں، لیکن درخواستوں کی طویل پراسیسنگ کے باعث انہیں اب تک مستقل رہائش نہیں مل سکی۔کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق ان تبدیلیوں کے نتیجے میں 2034 تک تقریباً ایک لاکھ مزید افراد ہیلتھ انشورنس سے محروم ہوسکتے ہیں۔

میڈیکیڈ سے محروم ہونے والے بعض افراد ہنگامی صورت میں ایمرجنسی میڈیکیڈ کے ذریعے علاج حاصل کرسکتے ہیں، تاہم معمول کے علاج اور ادویات تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے۔امریکا میں نئی پالیسی کے عملی اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جبکہ بعض ریاستیں اپنے وسائل سے متاثرہ تارکینِ وطن کی صحت کی سہولت برقرار رکھنے کے اقدامات کر رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.