مجسمۂ آزادی کی تنصیب کے140سال مکمل،تاریخی ورثےکی بحالی کی یادیں تازہ
نیویارک (نیوزڈیسک)این وائے کی پہچان مجسمۂ آزادی کو نصب کیے جانے کے 140 سال مکمل ہوگئے۔مجسمۂ آزادی صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ امریکا آنے والے لاکھوں تارکینِ وطن کے لیے امید اور آزادی کی علامت بھی ہے۔ یہ تاریخی یادگار ایک وقت میں خستہ حالی کے باعث بڑے حادثے کا شکار بھی ہوسکتی تھی، تاہم 1986 میں اس کی بحالی نے اسے نئی زندگی دی۔
نیویارک میں واقع مجسمۂ آزادی کی تقریبِ رونمائی کے 140 سال مکمل ہونے پر اس کی تاریخی اہمیت اور بحالی کے یادگار منصوبے کو خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ 1886 میں متعارف کرائی جانے والی یہ یادگار دنیا بھر میں آزادی کی نمایاں علامت سمجھی جاتی ہے۔1986میں اس کی صد سالہ تقریبات سے قبل بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کا کام کیا گیا۔
منصوبے کی قیادت میں شامل پیٹر لیرر کے مطابق، اگر یہ کام نہ کیا جاتا تو مجسمے کے تباہ کن طور پر گرنے کا خدشہ موجود تھا۔بحالی کے دوران مجسمے کو نقصان سے بچانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ اس کے گرد ایسا مچان بنایا گیا جو یادگار کو چھوتا نہیں تھا۔لیکویڈ نائٹروجن اور بیکنگ سوڈا کی مدد سے پرانی تہیں ہٹائی گئیں۔ مجسمے کے اندر موجود فولاد کی1700 سلاخیں وقت کے ساتھ خراب ہوچکی تھیں، جنہیں ایک وقت میں صرف تین سلاخیں نکال کر تبدیل کیا گیا تاکہ مجسمے کا استحکام برقرار رہے۔28اکتوبر 1986 کو امریکی صدر رونالڈ ریگن نے نیویارک میں مجسمۂ آزادی کی نئی مشعل روشن کرنے کی تقریب میں شرکت کی۔
امریکی نیشنل پارک سروس کے مطابق، 1894 سے 1952 کے دوران تقریباً12ملین تارکینِ وطن ایلس آئی لینڈ جاتے ہوئے اس مجسمے کے قریب سے گزرے۔ ان میں پیٹر لیرر کے والد بھی شامل تھے، جو 1913 میں جرمنی سے امریکا آئے تھے۔ لیرر نے بحالی کا کام مکمل ہونے کے بعد اپنے والد کو بھی یہ تاریخی یادگار دکھائی۔