vosa.tv
Voice of South Asia!

ٹرمپ انتظامیہ کا طلبہ کےقرض معافی پروگرام میں تبدیلیوں کےخلاف قانونی اپیلیں واپس لینے کا فیصلہ

0

 نیویارک(نیوزڈیسک)امریکا میں سرکاری اداروں اور غیر منافع بخش تنظیموں کےملازمین کے لیے قرض معافی پروگرام سے متعلق قانونی تنازع میں نیا موڑآگیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف دائر دو اپیلیں واپس لے لیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سرکاری خدمات انجام دینے والے ملازمین کے لیے طلبہ کے قرض معافی پروگرام میں تبدیلیوں سے متعلق قانونی جنگ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق محکمہ انصاف نے اس معاملےمیں دائر دو اپیلیں واپس لے لیں۔

یہ پروگرام سرکاری ملازمین، سرکاری اسکولوں، فائر اور پولیس ڈیپارٹمنٹس، عوامی اسپتالوں اور غیر منافع بخش اداروں میں کام کرنے والےاہل افراد کو 10 سال کی ادائیگیوں کے بعد تعلیمی قرض معاف کرانے کی سہولت دیتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 1ملین  سے زائد امریکیوں کے قرضے معاف کیے جا چکے ہیں۔گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نیا ضابطہ متعارف کرایا تھا، جس کے تحت وزیر تعلیم لنڈا میک موہن کو ایسے اداروں کو پروگرام سے خارج کرنے کا اختیار دیا گیا جن کی سرگرمیوں کو وہ غیر قانونی مقاصد سے منسلک قرار دیں۔

ناقدین کو خدشہ تھا کہ اس اقدام سے تارکین وطن اور ٹرانس جینڈر نوجوانوں کی حمایت کرنے والے ادارے متاثر ہوسکتے ہیں۔جون میں وفاقی ججوں نے اس تبدیلی کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔ بعد ازاں میساچوسٹس اور واشنگٹن میں وفاقی عدالتوں نے بھی ضابطے کو اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ پروگرام کے حامیوں نے قانونی اپیلیں واپس لینے کے فیصلے کو لاکھوں امریکیوں کے لیے اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.