کینیڈامیں اکنا کا سالانہ کنونشن،ہزاروں افراد کی شرکت
مسی ساگا(نیوزڈیسک)کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں آکنا کینیڈا کا سالانہ دو روزہ کنونشن منعقد ہوا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کنونشن میں اسلامی تعلیمات، مسلم شناخت، سماجی مسائل اور نوجوانوں کی رہنمائی پر گفتگو کے علاوہ علما، عالمی مقررین، خواتین اور نوجوانوں کے لیے مختلف پروگرام، نشید محفل، مشاعرہ اور ثقافتی سرگرمیاں بھی منعقد ہوئیں۔
کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں اکنا کینیڈا کے زیرِ اہتمام سالانہ اسلامی کنونشن میں تقریباً ہزارواں افراد شریک ہوئے۔دو روزہ اجتماع کا عنوان تھا، علم سے عمل کی طرف، نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم پر۔کنونشن میں برطانیہ کے معروف سوشل میڈیا تخلیق کار دی سنہ گائے خصوصی توجہ کا مرکز رہے، جن کے سوشل میڈیا پر تقریباً پینتیس لاکھ فالوورز ہیں۔
کنونشن میں شیخ سالار رسول، نوید عزیز، امیرہ الغوابے، اسامہ لبیب، سامی حمد، ڈاکٹر اقبال ندوی، ڈاکٹر نذیر خان، ڈاکٹر الطاف حسین اور ڈاکٹر محسن انصاری سمیت متعدد معروف علما، مقررین اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ دو روزہ کنونشن کے دوران مرکزی نشستوں کے علاوہ مختلف موضوعات پر متعدد ذیلی سیشنز بھی منعقد ہوئے، جن میں اسلامی تعلیمات، سماجی مسائل، نوجوانوں کی تربیت، مسلم شناخت اور مغربی معاشرے میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کی گئی۔
خواتین اور نوجوانوں کے لیے الگ پروگراموں کا اہتمام کیا گیا، جبکہ بنگلہ زبان میں بھی خصوصی نشست منعقد ہوئی۔کنونشن کے ایک اہم حصے میں اسلام قبول کرنے والے افراد، اور غیر مسلموں کے لیے خصوصی پروگرام رکھا گیا، جس میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔ اس نشست میں اسلامی تعلیمات کو سمجھنے، معاشرتی زندگی میں پیش آنے والے مسائل اور مسلم کمیونٹی کے ساتھ روابط کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنے پر توجہ دی گئی۔ اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف تعصبات کے تناظر میں بین المذاہب مکالمے پر زور دیا گیا۔کنونشن میں نشید بھی شرکا کی خصوصی دلچسپی کا مرکز رہی۔ جبکہ مشاعرے کے ذریعے ادبی ذوق رکھنے والے افراد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا۔
بازاروں، کھانے پینے کے مختلف اسٹالز اور خاندانی سرگرمیوں نے بھی شرکا کی توجہ حاصل کی۔ بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اس اجتماع میں شرکت کی۔بچوں کی دلچسپی کے لیے کھیل کا میدان بھی تیار کیا گیا۔مجموعی طور پر اکنا کینیڈا کا یہ کنونشن مذہبی تعلیم، سماجی آگاہی، نوجوانوں کی رہنمائی اور مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر سامنے آیا، جہاں دینی و فکری نشستوں کے ساتھ خاندانی اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی نمایاں جگہ دی گئی۔