نیویارک(نیوزڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہارورڈ، ییل اور اسٹینفورڈ سمیت نو بڑی امریکی جامعات کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ ان جامعات میں جے ون ایکسچینج ویزا پروگرام کے ممکنہ غلط استعمال کے ذریعے امریکی کارکنوں کی اجرتوں اور ملازمتوں کو متاثر کیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے نو جامعات کے جے ون ویزا پروگراموں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکی محکمہ محنت کے انسپکٹر جنرل کے مطابق بعض جامعات کو پہلے ہی قانونی نوٹس اور سمن جاری کیے جا چکے ہیں۔
تحقیقات میں غیر ملکی اثرورسوخ، مالی تعلقات اور وفاقی فنڈز سے چلنے والی تحقیقی سرگرمیوں میں ممکنہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔تحقیقات کی زد میں آنے والے اداروں میں ہارورڈ، ییل، اسٹینفورڈ، براؤن یونیورسٹی، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور دیگر جامعات شامل ہیں۔دوسری جانب بعض جامعات نے حکومتی دستاویزات موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کا جائزہ لے رہی ہیں اور امریکی قوانین کی پابندی کو سنجیدگی سے لیتی ہیں۔
جے ون ویزا غیر ملکی شہریوں کو تعلیمی تبادلے، تحقیق اور مخصوص تربیتی پروگراموں کے تحت امریکا میں عارضی طور پر تعلیم یا کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ماہرین کے مطابق ان تحقیقات کے نتائج بین الاقوامی طلبہ، محققین اور امریکی جامعات کے مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم فی الحال یہ الزامات اور تحقیقات کا معاملہ ہے، کسی بھی جامعہ کے خلاف خلاف ورزی ثابت ہونے کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔