اےآئی کےبعدروبوٹس کی یلغار،فیکٹریوں میں50لاکھ روبوٹس،انسانوں کامستقبل کیا ہوگا؟
مصنوعی ذہانت، افرادی قوت کی کمی اور تیزی سے بدلتی سپلائی چین نے دنیا بھر کی صنعتوں کو تیزی سے آٹومیشن کی طرف دھکیل دیا ہے، اور اب عالمی فیکٹریوں میں صنعتی روبوٹس کی تعداد 50 لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔کیا آنے والے برسوں میں فیکٹریوں میں انسان کم اور روبوٹس زیادہ نظر آئیں گے۔
بین الاقوامی فیڈریشن آف روبوٹکس کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں فعال صنعتی روبوٹس کی تعداد میں 9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایک ہی سال میں 6 لاکھ سے زیادہ نئے روبوٹس فیکٹریوں میں نصب کیے گئے۔اس دوڑ میں چین سب سے آگے ہے۔گزشتہ سال چین میں تقریباً 3 لاکھ 54 ہزار نئے صنعتی روبوٹس نصب کیے گئے، جو دنیا بھر کی مجموعی تنصیبات کا تقریباً 59 فیصد ہیں۔صرف یہی نہیں، چین کی مقامی روبوٹ بنانے والی کمپنیوں نے بھی عالمی مارکیٹ میں اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے اور ملک کی صنعتی روبوٹ مارکیٹ میں ان کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ گیا۔
دوسری جانب امریکا میں تقریباً 38 ہزار 500 نئے روبوٹس نصب ہوئے، جبکہ جاپان میں یہ تعداد 36 ہزار 219 رہی۔لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر فیکٹریاں اتنی تیزی سے روبوٹس کی طرف کیوں جا رہی ہیں؟وجہ ہے مصنوعی ذہانت، ہنر مند کارکنوں کی کمی، پیداواری لاگت میں کمی اور چوبیس گھنٹے کام کرنے والی خودکار مشینوں کی ضرورت۔رپورٹ کے مطابق ہر 10 ہزار صنعتی کارکنوں کے مقابلے میں اوسطاً 52 روبوٹس موجود ہیں، تاہم آٹو موبائل صنعت میں یہ تعداد کہیں زیادہ، یعنی 374 روبوٹس فی 10 ہزار کارکن ہے۔یعنی فیکٹریوں کا مستقبل صرف مشینوں کا نہیں، بلکہ اےآئی اور روبوٹکس کے امتزاج کا بنتا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلی انسانوں کی نوکریاں ختم کرے گی یا نئی نوعیت کی ملازمتیں پیدا کرے گی؟ایک بات واضح ہے، صنعتی روبوٹکس کی عالمی دوڑ شروع ہو چکی ہے، اور اےآئی اس رفتار کو مزید تیز کر رہا ہے۔