نیویارک (نیوزڈیسک)امریکی ریاست نیوجرسی میں نرسوں کی کمی کا مسئلہ سنگین ہوگیا۔ نرسنگ پروگرامز میں داخلے کے لیے ہزاروں اہل امیدوار موجود، مگر تعلیمی اداروں میں گنجائش محدود ہے۔
نیوجرسی کے معروف کاروباری جریدے این جے بِز میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست نیوجرسی میں نرسوں کی کمی مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ نرسنگ کی تعلیم کے لیے محدود گنجائش اس کمی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔نیوجرسی کولیبوریٹنگ سینٹر فار نرسنگ کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں 13 ہزار سے زائد اہل امیدواروں نے نرسنگ پروگرامز میں داخلے کی کوشش کی، لیکن صرف 4 ہزار 700 نشستیں دستیاب تھیں۔
رپورٹ میں 2037 تک رجسٹرڈ نرسوں کی 12 فیصد اور لائسنس یافتہ پریکٹیکل نرسوں کی 25 فیصد کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ نرس پریکٹیشنرز کی تعداد میں 43 فیصد اضافے کی پیش گوئی ہے۔مرکز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاریا وازک کے مطابق رجسٹرڈ نرسوں کی متوقع کمی قومی شرح 6 فیصد کے مقابلے میں دو گنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیکلٹی، کلینیکل سائٹس، پری سیپٹرز اور کلاس رومز و لیبارٹریز کی محدود گنجائش کے باعث نرسنگ اسکول داخلوں میں اضافہ نہیں کر پا رہے۔
ہولی نیم میڈیکل سینٹر کی چیف نرسنگ آفیسر مشیل ایسیٹو کے مطابق نیوجرسی کی نسبتاً عمر رسیدہ آبادی اور صحت کی زیادہ ضروریات کے باعث ہیلتھ کیئر نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ادارے کے سسٹر کلیئر ٹائنن اسکول آف نرسنگ نے 38 لاکھ ڈالر کی وفاقی فنڈنگ سے مزید فیکلٹی بھرتی اور سیمولیشن لیب میں توسیع کرتے ہوئے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کلاس میں داخلے دیے ہیں۔دوسری جانب ٹرانزیشن ٹو پریکٹس پروگرام میں 22 اسپتال اور 5 ہزار سے زائد افراد شامل ہیں، جس کے تحت ایک سال بعد نرسوں کو ملازمت پر برقرار رکھنے کی شرح 90 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ قومی اوسط 76.2 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیوجرسی میں نرسنگ اسکولوں کی گنجائش بڑھانے، نرسوں کی تربیت اور انہیں ملازمت پر برقرار رکھنے کے لیے مختلف قانون سازی کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔