میئر زہران ممدانی نے بتایا ہے کہ نیویارک سٹی فری ٹیکس پریپ پروگرام کے ذریعے شہریوں کو 2026 کے ٹیکس سیزن میں مجموعی طور پر 226.6 ملین ڈالر کی بچت ہوئی۔
حکام کے مطابق شہریوں نے اس مفت پروگرام کے تحت ایک لاکھ سے زائد ٹیکس ریٹرنز فائل کیے، جس سے انہیں تقریباً 188.8 ملین ڈالر کے ریفنڈز ملے اور تقریباً 37.8 ملین ڈالر کی ٹیکس تیاری فیس بچی۔ یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب وفاقی حکومت نے آئی آر ایس ڈائریکٹ فائل بند کردیا ہے۔ میئر ممدانی نے کہا کہ شہری اپنی محنت کی کمائی پر پورا حق رکھتے ہیں اور انہیں اپنا ہی ریفنڈ حاصل کرنے کیلئے ٹیکس تیار کرنے والوں کو رقم دینے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے۔ ڈی سی ڈبلیو پی کے کمشنر سیموئل لیوائن کے مطابق پروگرام کے رضاکار یہ یقینی بناتے ہیں کہ شہریوں کو پورا ریفنڈ اور ہر وہ کریڈٹ ملے جس کے وہ اہل ہیں، بغیر کسی پوشیدہ چارجز کے۔ حکام کے مطابق یہ سہولت ہر اس شخص کیلئے دستیاب ہے جو نیویارک میں رہتا یا کام کرتا ہو، چاہے اس کی امیگریشن حیثیت کچھ بھی ہو، بشرطیکہ خاندان کی صورت میں سالانہ آمدنی ایک لاکھ ڈالر یا انفرادی طور پر 70 ہزار ڈالر سے کم ہو۔ ادارے کے مطابق تقریباً نصف نیویارک شہری اس پروگرام کیلئے اہل ہیں۔ یہ سہولت شہر بھر میں 100 سے زائد مراکز پر جنوری سے اپریل تک دستیاب رہتی ہے، جبکہ سال بھر نئی اور ترمیم شدہ ریٹرنز کیلئے بھی مراکز کھلے رہتے ہیں۔ ادارے نے پیڈ ٹیکس پریپررز کے خلاف بھی کارروائی کی، جن پر زائد فیس وصول کرنے پر قانونی نوٹسز جاری کیے گئے۔