vosa.tv
Voice of South Asia!

نیویارک میں 1700ڈالرکانیاٹیکس کریڈٹ!والدین اورطلبہ کےلیےکیا بدلےگا؟

0

نیویارک (نیوزڈیسک ) والدین اور طلبہ کے لیے تعلیمی اخراجات سے جڑے نئے وفاقی ٹیکس کریڈٹ پروگرام پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ پروگرام کے تحت بعض ٹیکس دہندگان کو سالانہ 1700 ڈالر تک وفاقی ٹیکس کریڈٹ مل سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ نیویارک اس پروگرام میں شامل ہوگا یا نہیں؟

امریکی ریاست نیویارک میں نئے وفاقی ایجوکیشن ٹیکس کریڈٹ پروگرام میں شمولیت کے معاملے پر مذہبی اور نجی اسکولوں کی نمائندہ تنظیمیں ریاستی حکومت سے پروگرام قبول کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔نئے وفاقی پروگرام کے تحت ٹیکس دہندگان مخصوص تعلیمی اسکالرشپ اداروں کو عطیہ دے کر سالانہ 1700 ڈالر تک وفاقی ٹیکس کریڈٹ حاصل کرسکتے ہیں۔اس رقم سے اہل خاندانوں کے بچوں کی اسکولوں کی فیس سمیت بعض دیگر تعلیمی اخراجات پورے کیے جاسکتے ہیں۔

پروگرام میں پبلک اسکولوں کے طلبہ کے لیے بھی ٹیوشن، کتابیں، ٹیکنالوجی اور دیگر تعلیمی ضروریات سے متعلق اخراجات شامل کیے جاسکتے ہیں۔نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل کا کہنا ہے کہ وفاقی قوانین اور ضوابط حتمی ہونے کے بعد ریاست پروگرام میں شامل ہونے کے امکان پر غور کرے گی۔تاہم نیویارک کی اساتذہ کی بڑی تنظیم این وائےایس یو ٹی اس پروگرام کی مخالفت کر رہی ہے۔تنظیم کا مؤقف ہے کہ عوامی وسائل کو پبلک اسکولوں کے لیے ہی مختص کیا جانا چاہیے۔دوسری جانب ٹیچ کنڈیشن سمیت پروگرام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر پبلک اسکولوں کے طلبہ بھی اس کے فوائد حاصل کرسکتے ہیں تو نیویارک کو وفاقی پروگرام میں شامل ہونا چاہیے۔

وفاقی پروگرام یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونے والا ہے، تاہم نیویارک کی حتمی شمولیت کا فیصلہ وفاقی قوانین اور ضوابط مکمل ہونے کے بعد آگے بڑھے گا۔اب اصل سوال یہ ہے کہ نیویارک 1700 ڈالر تک کے وفاقی ٹیکس کریڈٹ پروگرام میں شامل ہوتا ہے یا نہیں، اور اگر شامل ہوتا ہے تو اس کے فوائد نجی، مذہبی اور پبلک اسکولوں کے طلبہ تک کس طرح پہنچیں گے۔یہ معاملہ آنے والے دنوں میں نیویارک کے والدین، اسکولوں اور ٹیکس دہندگان کے لیے خاص اہمیت رکھ سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.