امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز نیویارک کے میئر زہران ممدانی سے گریسی مینشن میں ملاقات کی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
صدر ٹرمپ سہ پہر تقریباً 4 بجے گریسی مینشن پہنچے، جہاں انہوں نے ممدانی کو کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ شہر کے اچھے میئرز میں شمار ہوں گے۔ پریس کانفرنس میں ممدانی نے سنی سائیڈ یارڈ منصوبے پر بات کی، جو کوئنز میں 180 ایکڑ پر پھیلا ٹرین یارڈ ہے اور جہاں 12 ہزار گھر اور 30 ہزار ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے، تاہم اس کیلئے کم از کم 21 ارب ڈالر کی وفاقی گرانٹس درکار ہوں گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس کیلئے وفاقی منظوریاں اور رقم درکار ہوگی، جبکہ انہوں نے بتایا کہ وہ خود سنی سائیڈ میں ایک عمارت کے مالک رہ چکے ہیں۔ دونوں رہنماؤں سے وائٹ ہاؤس کی جانب سے بعض نشریاتی اداروں پر پابندی کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس پر ٹرمپ نے کہا کہ میڈیا کا غیرجانبدار ہونا ضروری ہے۔ امیگریشن کے معاملے پر دونوں نے ہیٹی کے شہریوں کیلئے عارضی تحفظی حیثیت کے خاتمے پر بھی بات چیت کی، جس پر میئر ممدانی نے کہا کہ ہیٹی نژاد نیویارک باشندے شہر کی معیشت اور ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔ ملاقات کے بعد میئر ممدانی نے کہا کہ صدر کے ساتھ شدید اختلافات کے باوجود دونوں کے تعلقات برقرار ہیں، اور وہ ہر اس شخص سے بات چیت جاری رکھیں گے جو شہر کے عوام کو ریلیف دے سکے۔ یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تیسری آمنے سامنے ملاقات تھی، اس سے قبل فروری میں اوول آفس اور نومبر 2025 میں پہلی اہم ملاقات ہوچکی ہے۔