امریکی محکمہ انصاف نے پہلی مرتبہ ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ (ATRC) میں ایک مقدمہ دائر کرتے ہوئے ٹیکساس میں مقیم 47 سالہ افغان خاتون نظیرہ حاجی زادہ کو ملک بدر کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
محکمہ انصاف کے مطابق خاتون پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے اور داماد کے 2024 کے صدارتی انتخابات کے روز داعش سے متاثرہ فائرنگ کے منصوبے کی حمایت کی تھی۔محکمہ انصاف کے مطابق نظیرہ حاجی زادہ کو رواں ہفتے گرفتار کیا گیا اور انہیں واشنگٹن ڈی سی میں خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا عبداللہ حاجی زادہ اور داماد ناصر احمد توحیدی پہلے ہی دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں گرفتار ہیں۔عدالتی دستاویزات کے مطابق دونوں ملزمان نے انتخابات کے روز بڑے پیمانے پر حملے کے لیے دو اے کے-47 رائفلیں، سیکڑوں گولیاں اور میگزین خریدنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ایف بی آئی کے مطابق اسلحہ ایک خفیہ اہلکار سے خریدا جا رہا تھا، جس کے بعد اکتوبر 2024 میں دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ حملے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے خاندان نے اپنا گھر، گاڑیاں اور دیگر سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا، جبکہ نظیرہ حاجی زادہ نے بچوں کو افغانستان بھیجنے کے لیے یک طرفہ فضائی ٹکٹ بھی خریدے تھے۔امریکی حکام کے مطابق ایلین ٹیررسٹ ریموول کورٹ 1996 میں دہشت گردی میں ملوث غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی، تاہم اس عدالت میں یہ پہلا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والے افراد کے خلاف تمام قانونی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔