واشنگٹن: امریکا میں سزائے موت سے متعلق ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سنگین وفاقی جرائم میں ملوث مجرموں کو سزا دینے کے لیے نئے متبادل طریقے شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں فائرنگ اسکواڈ، بجلی کے جھٹکے اور گیس کے ذریعے ہلاکت شامل ہیں۔
یہ فیصلہ اس پس منظر میں کیا گیا ہے کہ مہلک انجکشن کے لیے درکار ادویات کی دستیابی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام سزائے موت کے عمل کو مؤثر بنانے اور متبادل طریقے فراہم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں عائد پابندی نے اس نظام کو کمزور کیا، جبکہ موجودہ انتظامیہ سزائے موت کو دوبارہ فعال بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 40 سے زائد مقدمات زیرِ سماعت ہیں، تاہم کسی میں بھی حتمی فیصلہ نہیں آیا۔محکمہ انصاف کے مطابق نئے طریقوں کو شامل کرنے سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ اگر مخصوص ادویات دستیاب نہ ہوں تو بھی سزا پر عملدرآمد ممکن رہے۔ ان میں سے کچھ طریقے پہلے ہی مختلف ریاستوں میں استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ گیس کے ذریعے ہلاکت کا طریقہ حالیہ عرصے میں متعارف کرایا گیا ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں، بشمول امریکن سول لبرٹیز یونین، نے اس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ طریقے غیر انسانی اور تکلیف دہ ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے کئی طریقے آئینی طور پر “ظالمانہ اور غیر معمولی سزا” کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق امریکا ان چند مغربی ممالک میں شامل ہے جہاں سزائے موت اب بھی رائج ہے، تاہم عوامی سطح پر اس کی حمایت میں بتدریج کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ قانونی جنگیں اور اپیلوں کا عمل بھی طویل اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔