مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور امریکا و ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے اہم تجاویز سامنے آ گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جبکہ ایران نے بھی اپنی 6 شرائط واضح کر دی ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت ایران کو اپنی جوہری صلاحیت ختم کرنے، افزودہ یورینیم عالمی ادارے کے حوالے کرنے اور علاقائی گروہوں کی حمایت روکنے کا کہا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کی شرط بھی شامل ہے۔ اس کے بدلے امریکا نے اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور ایران کو پرامن جوہری پروگرام میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔دوسری جانب ایرانی حکام نے جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط میں جنگ دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت، خطے سے امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ، حملہ آور افواج کی واپسی اور نقصانات کے ازالے جیسے مطالبات شامل کیے ہیں۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ خطے میں تمام محاذوں پر جنگ ختم کی جائے اور آبنائے ہرمز کے لیے نیا قانونی نظام بنایا جائے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ ایک جانب فوجی حکمت عملی جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسری جانب سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں، جس سے خطے کی صورتحال میں اہم تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔