vosa.tv
Voice of South Asia!

اے ڈی ایچ ڈی کےمریضوں کیلیےخطرے کی گھنٹی؟تحقیق میں اہم انکشاف

0

اے ڈی ایچ ڈی میں مبتلا افراد میں مجموعی طور پر قبل از وقت موت کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں تقریباً 71 فیصد زیادہ ہوسکتا ہے۔

نئی تحقیق میں یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ اے ڈی ایچ ڈی کی تجویز کردہ ادویات استعمال کرنے والے افراد میں موت کا خطرہ 25 فیصد کم دیکھا گیا۔ اے ڈی ایچ ڈی کی علامات مسلسل اور نمایاں ہوتی ہیں جو عموماً تعلیم، ملازمت، گھر، تعلقات یا روزمرہ زندگی پر اثر ڈالتی ہیں۔

اس مرض کی علامات میں کام پر توجہ میں دشواری، ضروری چیزیں بھول جانا، بے چینی یا ہاتھ پاؤں ہلنا، ضرورت سے زیادہ باتیں کرنا، منصوبہ بندی میں دشواری، غصے یا جذبات پر قابو نہ پاسکنا وغیرہ شامل ہیں۔اٹینشن ڈیفیسٹ / ہائپر ایکٹیوٹی ڈس آرڈر "اے ڈی ایچ ڈی” میں مبتلا افراد میں مجموعی طور پر قبل از وقت موت کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں تقریباً 71 فیصد زیادہ ہوسکتا ہے۔محققین نے اے ڈی ایچ ڈی سے وابستہ اموات کی مختلف وجوہات کا جائزہ لیا، جن میں خودکشی، حادثات اور دیگر زخموں کے علاوہ دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر قدرتی وجوہات سے ہونے والی اموات بھی شامل تھیں۔

تحقیق کے مطابق اے ڈی ایچ ڈی میں مبتلا افراد میں خودکشی سے موت کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں تقریباً 89 فیصد زیادہ پایا گیا جنہیں یہ کیفیت لاحق نہیں تھی۔ مزید یہ کہ اے ڈی ایچ ڈی کی ادویات کے حوالے سے تجزیہ صرف 19 میں سے 3 مطالعات پر مبنی تھا، جس کے باعث اس حصے کے نتائج کو ابتدائی قرار دیا گیا ہے۔یونیورسٹی آف لیورپول کی محقق لوسی کوریگن کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ادویات اے ڈی ایچ ڈی میں مبتلا افراد کی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، تاہم اس تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.