امریکامیں یوکرینی اورسوڈانی شہریوں کی ملک بدری عارضی طور پرمؤخر
نیویارک(نیوزڈیسک)امریکا میں ایک لاکھ سے زائد یوکرینی اور سوڈانی شہریوں کو فوری ملک بدری سے عارضی ریلیف مل گیا۔محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے تحفظ کی مدت ختم ہونے کے باوجود ان افراد کی امریکا میں قیام کی اجازت برقرار رکھی ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے یوکرین اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زائد افراد کی ملک بدری عارضی طور پر مؤخر کردی ہے۔ ایسوسی اٹیڈ پریس کے مطابق ان افراد کے لیے عارضی محفوظ حیثیت،یعنی ٹی پی ایس، کی مدت 19 اکتوبر کو ختم ہونا تھی، تاہم محکمہ نے کہا ہے کہ حتمی اعلان ہونے تک ان کا تحفظ برقرار رہے گا۔اس فیصلے سے تقریباً ایک لاکھ ایک ہزار یوکرینی اور اٹھارہ سو سوڈانی شہری مستفید ہوں گے۔
حکام نے یہ نہیں بتایا کہ تحفظ میں توسیع کتنی مدت کے لیے ہوگی یا ان کے قانونی اسٹیٹس سے متعلق حتمی فیصلہ کب سامنے آئے گا۔یوکرین کے لیےیہ تحفظ 2022 میں روس کے مکمل حملے کے بعد متعارف کرایا گیا تھا، جبکہ سوڈان کے شہریوں کو 1997 سے اس پروگرام کے تحت تحفظ ملتا رہا ہے۔ دونوں ممالک میں جاری مسلح تنازعات اور غیر محفوظ حالات کے باعث ان شہریوں کی واپسی پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔امریکا میں ٹی پی ایس کے تحت اہل افراد کو مخصوص مدت کے لیے ملک میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، تاہم یہ مستقل رہائش حاصل کرنے کا راستہ نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل متعدد ممالک کے شہریوں کے لیے یہ تحفظ ختم کرچکی ہے، گزشتہ ماہ تقریباً دو لاکھ سلواڈورین شہریوں کے لیے بھی تحفظ برقرار رکھا گیا تھا۔