ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی میں5بڑی تبدیلیاں،سرحدی دیوارسےویزا پابندیوں تک
میکسیکو(نیوزڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد روکنے اور امریکی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے وعدے کے تحت امیگریشن نظام میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ سرحدی دیوار کی تعمیر سے لے کر گرفتاریوں، ملک بدری، پناہ گزینوں اور ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کے ویزوں تک، ان پالیسیوں نے امریکا میں داخلے اور قیام کے طریقۂ کار کو تبدیل کردیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر نگرانی سخت کرتے ہوئے پناہ کی درخواستوں کے عمل کو محدود کیا، فوجی اہلکار تعینات کیے اور تارکینِ وطن کے داخلے کے قواعد مزید سخت بنائے۔ میکسیکو پر بھی غیر قانونی آمد روکنے کے لیے دباؤ بڑھایا گیا، جس کے بعد سرحد پر آمد سے متعلق ریکارڈ ہونے والے واقعات میں نمایاں کمی رپورٹ ہوئی۔حکومت نے سرحدی دیوار اور دیگر رکاوٹوں کے لیے 46 ارب 50 کروڑ ڈالر کی اضافی رقم مختص کی۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کی دوسری مدت میں تقریباً 250 میل نئی دیوار اور دیگر رکاوٹیں مکمل ہوئیں، جبکہ مزید تعمیراتی کام جاری ہے۔ تاہم، غیر قانونی آمد روکنے میں دیوار کے حقیقی کردار پر بحث برقرار ہے۔امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے ملک بھر میں چھاپوں اور گرفتاریوں میں اضافہ کیا۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2026 میں امیگریشن حراست میں افراد کی تعداد تقریباً 50 ہزار تک پہنچ گئی۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل تھے جنہیں کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی تھی، جس پر قانونی حقوق اور امیگریشن کارروائیوں کے طریقۂ کار سے متعلق تحفظات سامنے آئے۔ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ گزینوں کی آمد محدود کی اور بعض ممالک کے شہریوں کے لیے عارضی محفوظ حیثیت ختم کرنے کے اقدامات کیے۔ ان فیصلوں سے متاثرہ افراد کے امریکا میں رہنے اور کام کرنے کے مواقع بھی متاثر ہوئے۔
ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کے ایچ ون بی ویزوں کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا، جس پر امریکی ٹیکنالوجی صنعت میں تشویش پیدا ہوئی۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، اس فیس کو عدالت نے فی الحال روک دیا تھا۔ دوسری جانب، ٹرمپ گولڈ کارڈ پروگرام کے تحت ایک ملین ڈالر کی ادائیگی کے ذریعے امریکی رہائش حاصل کرنے کا راستہ بھی پیش کیا گیا۔ٹرمپ انتظامیہ ان اقدامات کو سرحدی تحفظ اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، جبکہ ناقدین ان کے انسانی، قانونی اور معاشی اثرات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان پالیسیوں سے امریکی امیگریشن نظام اور غیر ملکی کارکنوں کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔