مئیرممدانی کی نیویارک میں پارکنگ مالکان سےآئس کوجگہ نہ دینے کی اپیل
نیویارک (نیوزڈیسک)تارکینِ وطن کے خلاف امیگریشن کارروائیوں پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ میئر ظہران ممدانی نے ریاست کے 100 سے زائد منتخب نمائندوں کے ساتھ مل کر شہر کے نجی پارکنگ گیراجز اور لاٹس کے مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کو اپنی پراپرٹی امیگریشن آپریشنز کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
میئر کے دفتر کے مطابق، ایک ہزار سے زائد پارکنگ مالکان اور آپریٹرز کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ وہ آئس کو اپنی جگہ کرائے پر نہ دیں، مفت استعمال کے لیے فراہم نہ کریں اور ایجنسی کو واضح طور پر بتائیں کہ ان کی سہولیات آپریشنز کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔یہ معاملہ برونکس اور مین ہٹن کی سرحد کے قریب واقع علاقے ماربل ہل میں پیش آنے والی فائرنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، 8 اکتوبر کو 28 سالہ آسکر بیلگل کی گاڑی کے قریب آئس اہلکاروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے۔ واقعے کے وقت ان کا پانچ سالہ بیٹا بھی گاڑی میں موجود تھا۔ میئر کے دفتر کے مطابق، اہلکاروں نے واقعے سے چند بلاک دور ایک نجی پارکنگ لاٹ کو اپنے آپریشنز کے مرکز کے طور پر استعمال کیا تھا۔نیویارک کے دیگر علاقوں میں بھی آئس کی جانب سے نجی پارکنگ سہولیات استعمال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں کوئینز کے ناردرن بلیوارڈ پر دو بینکوں کی پارکنگ لاٹس اور مین ہٹن کی مورٹن اسٹریٹ پر ایک گیراج شامل ہیں۔
میئر ممدانی کا مؤقف ہے کہ شہر کی سرکاری املاک کے استعمال پر پہلے ہی قانونی ضابطے موجود ہیں، لیکن نجی پارکنگ لاٹس کے معاملے میں یہی تحفظات اسی طرح لاگو نہیں ہوتے۔ اسی لیے انتظامیہ نے اب نجی مالکان سے براہِ راست تعاون کی اپیل کی ہے۔فروری 2026 میں جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر 13 کے تحت شہر کی مختلف ایجنسیوں کو وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ رابطوں اور سرکاری املاک کے استعمال سے متعلق پالیسیوں کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ شہر کے مطابق، مخصوص قانونی استثناؤں یا عدالتی وارنٹ کے بغیر، وفاقی امیگریشن کارروائیوں کے لیے شہر کی املاک کے استعمال پر پابندیاں عائد ہیں۔
نجی ملکیت والی پارکنگ لاٹس کے لیے میئر کا موجودہ مطالبہ ایک اپیل ہے، نہ کہ تمام نجی پارکنگ مالکان پر نافذ نئی قانونی پابندی۔