امریکی ریاست فلوریڈا کی وفاقی عدالت نے لیبارٹری کے نائب صدر جوزف روڈریگز کو کووڈ-19 ٹیسٹنگ کی آڑ میں غیرضروری بلڈ ٹیسٹوں کے ذریعے میڈیکیئر سے 15 ملین ڈالر سے زائد کے فراڈ کے جرم میں مجرم قرار دے دیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 58 سالہ ملزم ویسٹ پام بیچ کے رہائشی کمپلیکسز میں رہائش پذیر بزرگ شہریوں کو نشانہ بناتا تھا، جو وبا کے دوران کووڈ ٹیسٹ کروانے کے خواہشمند تھے۔ استغاثہ کے مطابق ملزم کی مارکیٹنگ کمپنی فینکس ہیلتھ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ڈرائیو تھرو ٹیسٹنگ ایونٹس میں مریضوں کو کووڈ سواب اور اینٹی باڈی ٹیسٹ کے ساتھ درجنوں یا سینکڑوں غیرضروری بلڈ ٹیسٹ بھی دیے جاتے تھے، جن کا کوئی ڈاکٹر نے آرڈر نہیں دیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ ٹیسٹ ہارمونز سے لے کر آرسینک، مرکری اور کیڈمیم جیسے بھاری دھاتوں کے ٹیسٹ تک شامل تھے، جنہیں میڈیکیئر کو طبی طور پر ضروری ظاہر کرکے بل بھیجے گئے۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے دعووں پر جعلی طور پر کسی ڈاکٹر کا نام بھی درج کروایا۔ حکام کے مطابق تقریباً چار ماہ کے دوران 9 مختلف کلبوں میں قریباً 2 ہزار مریضوں سے یہ ٹیسٹ لیے گئے، جس پر میڈیکیئر کو 15 ملین ڈالر سے زائد کے بل بھیجے گئے اور 5 لاکھ ڈالر سے زائد کی ادائیگی بھی ہوئی۔ جیوری نے ملزم کو صحت کے فراڈ کی سازش اور 6 الزامات میں مجرم قرار دیا، جس پر ہر الزام پر زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ سزا کا تعین جنوری 2027 میں ہوگا۔