امریکی دوا ساز کمپنی آئی پوائنٹ فارماسیوٹیکلز نے وفاقی حکومت کے ساتھ معاہدے کے تحت 4.6 ملین ڈالر سے زائد رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ اس پر عائد فالس کلیمز ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزامات نمٹائے جا سکیں۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے 2019 سے 2023 کے دوران آنکھوں کی دوا ڈیکسیکیو کی فروخت بڑھانے کے لیے بعض سرجیکل سینٹرز کو غیر قانونی مالی مراعات اور مفت نمونے فراہم کیے، جس سے وفاقی صحت پروگرام متاثر ہوئے۔حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی نے پانچ سالہ کارپوریٹ انٹیگریٹی معاہدہ بھی قبول کیا ہے، جبکہ ایک وسل بلوور کی شکایت پر سامنے آنے والے اس مقدمے میں شکایت کنندہ کو بھی تصفیے کی رقم سے حصہ ملے گا۔امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ یہ تصفیہ صرف الزامات کے حل کے لیے کیا گیا ہے اور اس سے کمپنی پر کسی جرم یا قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین نہیں ہوتا۔