مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے تقریباً 19 اڈے ہیں جہاں فوجیوں اور اسلحے کی تعداد بدلتی رہتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں 1958 سے امریکی اڈے موجود ہیں۔مختلف تحقیقی اداروں کے مطابق امریکہ کے خطے میں کم از کم 19 فوجی اڈے موجود ہیں، جہاں تعینات فوجیوں اور عسکری سازوسامان کی تعداد حالات کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ ان اڈوں پر مجموعی طور پر تقریباً 40 سے 50 ہزار امریکی اہلکار موجود رہتے ہیں۔خطے کا سب سے اہم امریکی اڈہ قطر میں واقع العدید ایئر بیس ہے، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کا فارورڈ ہیڈکوارٹر ہے اور عراق، شام اور افغانستان میں ہونے والی کارروائیوں کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر قائم ہے، جبکہ کویت میں کیمپ عریفجان اور علی السالم ایئر بیس امریکی زمینی اور فضائی آپریشنز کے لیے اہم مراکز ہیں۔متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس اور دبئی کی جبل علی بندرگاہ امریکی فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ عراق میں عین الاسد ایئر بیس اور اربیل ایئر بیس اہم عسکری تنصیبات ہیں، جبکہ اردن میں موفق الصلتی ایئر بیس امریکی فضائی مشنز کا مرکز ہے۔ سعودی عرب میں بھی امریکی فوجی میزائل اور فضائی دفاعی نظام کے ساتھ تعینات ہیں۔اس کے علاوہ بحرِ ہند میں واقع ڈیاگو گارشیا بھی امریکی فوج کے لیے انتہائی اہم اسٹریٹجک اڈا سمجھا جاتا ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں یہ وسیع فوجی نیٹ ورک امریکہ کی دفاعی حکمتِ عملی اور تیز ردعمل کی صلاحیت کا اہم حصہ ہے۔