vosa.tv
Voice of South Asia!

ہندوستان کی پہلی مسجد جو نبی کریم ﷺ کے دور میں تعمیر ہوئی

0

بھارت کی ریاست کیرالہ کے کوڈنگلور علاقے میں واقع چیرامن جمعہ مسجد، برصغیر پاک و ہند کی سب سے قدیم مسجد کے طور پر جانی جاتی ہے ۔

چیرامن جامع مسجد کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق یہ مسجد ساتویں صدی عیسوی میں، یعنی 629 عیسوی میں تعمیر کی گئی تھی، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا دور ہے، اور اسے دنیا کی قدیم ترین مسجد سمجھا جاتا ہے جہاں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی رہی ہے،ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق اس مسجد کی تعمیر کا پسِ منظر اس وقت کے مقامی حکمران چیرامن پِرومل کے قبولِ اسلام سے جڑا ہوا ہے۔انہوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا حیرت انگیز واقعہ خواب میں دیکھا، جس کے بارے میں عرب تاجروں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ آخری نبی ﷺ کا معجزہ ہے۔ اس کے بعد وہ عرب کی طرف روانہ ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔اس مسجد کی تعمیر اور اسلام کی دعوت کے فروغ میں مشہور تابعی اور بزرگ عالم مالک بن دینار کا نام خاص طور پر نمایاں ہے۔روایات کے مطابق چیرامن پیرومل چیرہ سلطنت کے حکمران تھے، انہوں نے خود پیغمبر اسلام ﷺ سے ملاقات کی اور اسلام قبول کیا۔ بعد ازاں انہوں نے حضرت مالک بن دینارؒ کو کیرالہ بھیجا اور اپنے اہلِ خانہ کے نام خطوط ارسال کیے جن میں ان سے مکمل تعاون کی درخواست کی گئی تھی۔تاریخی روایات کے مطابق حضرت مالک بن دینارؒ عرب سے ہندوستان آئے اور انہوں نے کیرالہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کی اور کئی مساجد کے قیام میں بھی کردار ادا کیا۔ان روایات کا ذکر متعدد تاریخی کتابوں میں ملتا ہے جن میں امام ابن حجر عسقلانی کی ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“، شیخ زین الدین مخدوم کی ”تحفة المجاہدین“ اور برطانوی مؤرخ ولیم لوگن کی ”مالابرمینوئل“ شامل ہیں۔کوڈُنگَلور کا علاقہ قدیم زمانے میں ’موزِرِس‘ نامی عظیم بندرگاہ کے قریب واقع تھا، جو اس دور میں عالمی تجارت کا ایک بڑا مرکز تھا۔عرب تاجر صدیوں سے یہاں آتے تھے اور مقامی آبادی کے ساتھ تجارت کے ساتھ ساتھ اپنے اعلیٰ اخلاق اور کردار کے ذریعے اسلام کا پیغام بھی پہنچاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ ہندوستان کا وہ خطہ بنا جہاں سب سے پہلے اسلام متعارف ہوا اور مقامی سطح پر قبول کیا گیا۔یہ مسجد آج بھی موجود ہے اور مختلف ادوار میں اس کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی جس میں 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں گنبد اور مینار بھی شامل ہوئے، تاہم 2022 کی مرمت میں انہیں ہٹا کر قدیم ساخت کو زیادہ سے زیادہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ اس کی اصل تاریخی حیثیت برقرار رہے۔حالیہ برسوں میں کیرالہ حکومت کے موزِرِس ہیریٹیج پروجیکٹ کے تحت اس مسجد کی باقاعدہ بحالی اور تحفظ کا کام کیا گیا، جس کا مقصد اس عظیم اسلامی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنانا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.