بنگلہ دیش میں حالیہ عام انتخابات اور قومی ریفرنڈم کے نتائج نے ملک کی سیاست کا رخ بدل دیا ہے۔ 12 فروری کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد جاری نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں اتحاد نے 210 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کے بعد پارٹی چیئرمین طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ طارق رحمان تقریباً 35 سال بعد بنگلہ دیش کے پہلے مرد وزیراعظم ہوں گے، کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک میں خواتین قیادت برسرِ اقتدار رہی ہے۔انتخابات کے ساتھ ’جولائی چارٹر‘ نامی اصلاحاتی پیکج پر قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جس میں عوام کی بڑی اکثریت نے حمایت کی۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چار کروڑ اسی لاکھ سے زائد ووٹرز نے چارٹر کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ تقریباً دو کروڑ پچیس لاکھ افراد نے مخالفت کی۔ مجموعی طور پر 60 فیصد سے زائد ٹرن آؤٹ نے واضح کیا کہ عوام حکومتی نظام میں بڑی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔’جولائی چارٹر‘ 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد تیار کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اس چارٹر کا مقصد ریاستی ڈھانچے میں ایسی اصلاحات متعارف کرانا ہے تاکہ مستقبل میں آمرانہ طرزِ حکمرانی کا راستہ روکا جا سکے۔چارٹر میں 84 نکات شامل ہیں، جن میں سے 47 پر عمل درآمد کے لیے آئینی ترامیم درکار ہوں گی جبکہ 37 نکات قانون سازی کے ذریعے نافذ کیے جائیں گے۔ اس کے لیے ایک خصوصی کونسل تشکیل دی جائے گی جو 270 دنوں میں اصلاحاتی عمل مکمل کرے گی۔اہم تجاویز میں وزیراعظم کے عہدے کے لیے مدت کی حد مقرر کرنا، 100 نشستوں پر مشتمل اَپر ہاؤس کا قیام، صدر کے اختیارات میں اضافہ، عدلیہ کی خودمختاری، پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ اور اپوزیشن کو اہم کمیٹیوں کی سربراہی دینا شامل ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ریفرنڈم اور انتخابی نتائج بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہیں، جس کے اثرات آئندہ کئی برس تک ملکی سیاست پر مرتب ہوں گے۔