اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں نمازِ جمعہ کے دوران امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کے باہر خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد جاں بحق جبکہ 160 سے زائد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب نمازی نماز جمعہ کی ادائیگی میں مصروف تھے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم موجود افراد کی مزاحمت پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر پمز اور دیگر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جبکہ نیشنل فرانزک ادارے کی ٹیم نے بھی موقع سے مواد حاصل کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور کو بھاگتے ہوئے احاطے کی جانب آتے دیکھا گیا ہے۔واقعے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی جائے حادثہ پر پہنچے اور سیکیورٹی حکام سے بریفنگ لی۔ انہوں نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی حملے کو ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش قرار دیتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اظہار کیا۔وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری سمیت مختلف سیاسی و حکومتی شخصیات نے واقعے کی مذمت کی ہے اور شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ عبادت گاہوں کی حفاظت مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔