نیویارک(نیوزڈیسک)موسم کی تبدیلی کے ساتھ فلو اور کووڈ جیسی سانس کی بیماریوں سے بچاؤ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے اس سیزن کے لیے اپنی ویکسین لگوائی ہے؟ کیا بزرگوں، بچوں اور پہلے سے بیمار افراد کو اضافی احتیاط کی ضرورت ہے؟ اور نیو یارک میں یہ ویکسین کہاں دستیاب ہیں؟جانتے ہیں اس رپورٹ میں
نیو یارک کے سرکاری صحت کے نظاماین وائے سی ہیلتھ + ہاسپیٹلز کے مطابق، فلو اور کووڈ سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن اس موسم میں بھی اہم ہے۔2026–27 کے سیزن کی ویکسینز کے بارے میں معلومات حاصل کرتے وقت شہریوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کی عمر، صحت کی کیفیت اور طبی تاریخ کے مطابق کون سی ویکسین مناسب ہے۔
صحت کے ماہرین کے مطابق ویکسینیشن شدید بیماری اور ہسپتال میں داخلے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، اگرچہ کوئی ویکسین سو فیصد تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی۔یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ فلو اور کووڈ دو مختلف بیماریاں ہیں۔ ان سے بچاؤ کے لیے الگ ویکسینز استعمال ہوتی ہیں، اور مناسب خوراک کا فیصلہ عمر اور طبی رہنمائی کے مطابق کیا جاتا ہے۔فلو، جسے انفلوئنزا بھی کہا جاتا ہے، ایک متعدی سانس کی بیماری ہے۔ اس سے بخار، کھانسی، گلے میں درد، جسم میں درد اور شدید تھکاوٹ جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
چھ ماہ یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے موسمی فلو ویکسین کی سفارش کی جاتی ہے، بشرطیکہ ان کے لیے کوئی طبی ممانعت نہ ہو۔خصوصاً بزرگ افراد، چھوٹے بچے، اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو فلو کی پیچیدگیوں کا زیادہ خطرہ ہو سکتا ہے۔اگر آپ یا آپ کے گھر میں کوئی فرد ان گروہوں میں شامل ہے، تو اپنے ڈاکٹر یا مستند طبی مرکز سے ویکسین کے بارے میں مشورہ کرنا مفید ہوگا۔اگرچہ کووڈ کی عالمی ہنگامی صورتحال ختم ہو چکی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے۔
کووڈ اب بھی بعض افراد میں شدید بیماری پیدا کر سکتا ہے، خصوصاً بڑی عمر کے افراد، کمزور مدافعتی نظام رکھنے والوں اور کچھ دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد میں۔اسی لیے تازہ کووڈ ویکسین کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے معلوم کریں کہ آیا آپ کو موجودہ سیزن کی خوراک کی ضرورت ہے۔یہ بھی یاد رکھیں کہ کووڈ ویکسین اور فلو ویکسین ایک دوسرے کا متبادل نہیں ہیں۔ دونوں کے بارے میں الگ الگ طبی سفارشات لاگو ہوتی ہیں۔